نواب براہمدغ بگٹی نے پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کو بے نقاب کردیا

نیوز ڈیسک(ریپبلکن نیوز) بلوچ ریپبلکن پارٹی کے سربراہ اور آزادی پسند قومی رہنما نواب براہمدغ بگٹی نے اپنے تازہ ویڈیو بیان میں پاکستانی فوج کے گھناونے چہرے کو بے نقاب کردیا۔

نواب براہمدغ بگٹی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان میں ایک ادارہ ہے جسے فوج کہتے ہیں جس کی اکثریت پنجابی ہے، جو سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا وارث اور مالک وہی ہیں، ملک کے تمام اداروں اور لوگوں کے مالک بھی وہی ہیں اور لوگوں کی قسمت کا فیصلہ بھی انہی کے زمہ ہے اور ملک بھر میں جتنے بھی وسائل ہیں وہ بھی انہی کے ہیں اور انکا وارث بھی فوج کا یہی ادارہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی لوگ اپنے حقوق یا اپنے وسائل پر اپنے اختیار کی بات کرتے ہیں یا اس ادارے کے پالیسیوں کے خلاف بات کرتے ہیں انہیں غدار کہا جاتا ہے، اغوا کیاجاتا ہے، ٹارچر کیا جاتا ہے اور انکی لاشوں کو مسخ کر کے ویرانوں میں پھینک دیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے وہ لوگوں کو انکی حقوق کی جدوجہد سے روکھنے میں کامیاب ہوجائیں گے، جو کہ انکی ایک احمقانہ سوچ ہے۔

کیونکہ یہ فوجی لوگ ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ طاقت کے زریعے ہی ہر مسئلے کا حل نکالا جائے، سیاسی طریقے سے مسائل کا حل نکالنے کی نا انکی تربیت ہے اور نا ہی اِنہوں نے کبھی کوشش کی ہے اور نا ہی اس بارے میں انکی کوئی عقل ہے۔

نواب براہمدغ بگٹی نے کہا کہ جب کسی مسئلے کو طاقت کے زریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے تو نا صرف وہ مسئلہ الجھے گا بلکہ پورا معاشرہ تباہی کی طرف چلا جائیگا۔

پاکستان کے بننے سے لیکر آج تک کوئی ایک مثال یہ ادارہ (فوج) بتا دے کہ انکی پالیسیوں کی وجہ سے فائدہ ہوا ہو۔ بلکہ انکی ہر پالیسی، ہر طاقت کے استعمال، ہر معاملے میں مداخلت کرنے سے یہ ملک ٹوٹا ہے، تباہ ہوا ہے، ملک کا جو سیاسی کلچر ہے وہ تباہ ہوا ہے، سوشلی یہ ملک تباہ ہوتا جارہا ہے، ایک بھی کوئی ایسی مثال نہیں ہے جس سے فائدہ ہواہو۔

نواب براہمدغ بگٹی نے مزید کہا کہ اس ملک کے جتنے بھی حقیقی لیڈرشپ ہے وہ جیل میں ہیں یا تو ملک سے باہر ہیں یا پھر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں یا اپنی دفاع کے لیے لڑ رہے ہیں۔ ملک بھر میں غداروں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، آدھے سے زیادہ آبادی پر غداروں کا لیبل لگ چکا ہے۔اور جتنے بھی کرپٹ، چاپلوس اور یس سر کرنے والے لوگ ہیں وہ سب سے اچھے لوگ ہیں، انکی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور انکو پروجیکشن دی جاتی ہے، انہیں پروجیکٹ کیا جاتا ہے اپنے لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے کہ سب سے زیادہ محبِ وطن اور اپنے ملک کے لیے درد رکھنے والے لوگ یہی ہیں۔

اسی لیے امریکی سابقہ جنرل اور پینٹاگون کے سابقہ چیف ماتس نے کچھ ہی دنوں پہلے ایک بیان دیا تھا کہ پاکستان کا جو موجودہ لیڈرشپ ہے اسے اپنے ملک کی کوئی پرواہ نہیں، اور میں سمجھتا ہوں انہوں نے بالکل درست کہا تھا بلکہ ہر شخص یہی محسوس کرتا ہے سوچتا ہے جو جنرل ماتس نے کہا تھا۔

نواب براہمدغ بگٹی نے کہا کہ ہم بلوچ آپکے ساتھ رہنا نہیں چاہتے، یہ ہم نہیں ہیں بلکہ ستر سالوں سے جو آپکا رویہ رہا ہے، ہمیں (بلوچوں) کو شاباش ہے جو ہم نے ستر سالوں تک برداشت کیا، اگر اور کوئی ہوتا وہ پانچ یا دس سال بھی برداشت نہیں کرتا۔ سندھ آپ سے خوش نہیں ہے، پشتون آپ سے تنگ آچکے ہیں، مہاجر بھائی آپ سے ناراض ہیں، ملک سوشلی، فنانشلی اور اقتصادی طورپر تباہ ہوتا جارہا ہے اور آپ کہتے ہیں کہ ہم جارہے ہیں کشمیر کو لینے، پاگل پن کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔

نواب براہمدغ بگٹی نے کہا کہ پاکستان میں بچا کیاہے جو آپ جائیں گے دوسروں کو ساتھ دینے، اپنا ملک بھی تباہ کردیا اور اپنے ہمسایہ ممالک کو بھی تنگ کردیا ہے، کوئی ایک ہمسایہ ملک بتادیں جو پاکستان سے خوش ہے، اور یہ ساری پالیسیاں پاکستانی فوجی کی ہیں، ان سب کی جڑھ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی ہے۔

اور یہ کہتے ہیں کہ ہماری بڑی اچھی انٹیلی جنس ایجنسی ہے، کِیا کیا ہے آئی ایس آئی نے؟ صرف ہر جگہ پر ناکامی اور بےشرمی کے سوا انکو اور کیا حاصل ہوا ہے اور کونسی بڑی کامیابی انہوں نے آج تک حاصل کی ہے۔ صرف بجائے فوج کی جو دہشتگردانہ پالیسیاں ہیں طاقت کا استعمال ہے، اپنے لوگوں کی قتل و غارت ہے اسکو تقویت دینے میں، اسے سپورٹ کرنے میں آئی ایس آئی سو فیصد مدد فرائم کرتی ہے۔

نواب براہمدغ بگٹی نے مزید کہا کہ بہتر اسی میں ہے کہ بجائےاحمقانہ اور بے وقوفانہ باتیں کرنے سے کہ کشمیر لائیں گے یا افغانستان میں ایسی حکومت لائیں گے جو پاکستان کو سپورٹ کرے، پاکستان میں جو لوگ ہیں جو بدقسمتی سے 1947 سے اس ملک کا حصہ ہیں انکو سنبھالیں رکھیں اور اپنی غلطیوں کو درست کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں