واشنگٹن: جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری مہم، پاکستانی ادارے پریشان

واشنگٹن/رپورٹ (ریپبلکن نیوز) بلوچ ریپبلکن پارٹی اور ورلڈ بلوچ آئرگنائزیشن کی جانب سے برطانیہ کے بعد اب امریکہ میں بڑے پیمانے پر آگاہی مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ مہم ایک ایسے وقت میں شروع کیا گیا ہے جب پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان، پاک فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوا اور ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید امریکہ کے تین روزہ دورے پر ہیں جہاں وہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرینگے۔

آگاہی مہم اب تک مخلتف طریقوں سے جاری ہے، پہلے مرحلے میں عمران خان کے امریکہ پہنچنے پر ائیرپورٹ سے لیکر پاکستانی سفارتخانے تک (موبائل بل بورڈ ) بڑے گاڈیوں پر بینرز آوازیں کیے گئے جو کہ پورا دن شہر بھر میں گھومتے رہے۔ ان بینرز پر “پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ختم کی جائیں” کے عنوان سے بڑے نعرے درج تھئ۔

بی آر پی اور ڈبلیو بی او نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ مہم کا مقصد پاکستان میں اقلیتوں، جن میں احمدی، شیعہ اور مظلوم اقوام جس میں بلوچ، سندھی، پشتون اور مہاجر اقوام شامل ہیں پر ریاستی جبر ختم کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ اور امریکی انتظامیہ کے نوٹس میں لانا ہے کہ بلوچستان سمیت پاکستان بھر میں جبری گمشدگیوں جیسے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا جارہا ہے جس کو روکنے کیلئے اقدامات کیئے جائیں۔

جبکہ دوسرے مرحلے میں کیپیٹل ون ایرینا میں جہاں پاکستانی وزیر اعظم پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرنے والے تھے جہاں ہزاروں لوگ شرکت کررہے تھے وہاں بڑے بڑے اشہارات آوازہ کیئے گئے جن پر بلوچستان سمیت پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے مسلئے کو جاگر کیا گیا۔

تیسرے مرحلے میں امریکہ کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں اشہارات شائع کیئے گئے اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے آگاہی دی گئی۔

جبری گمشدگیوں کے خلاف آگاہی مہم کے بارے میں مزید خبریں:
بی آر پی، ڈبلیو بی او کاپاکستانی وزیر اعظم کے دورائے امریکہ کے موقع پر واشنگٹن میں آگاہی مہم کا علان
واشنگٹن میں عمران خان کا خطاب، پاکستان مردہ باد اور آزاد بلوچستان کے نعرے بلند
جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری مہم پر ریپبلکن نیوز کا اداریہ

واضح رہے کہ واشنگٹن پوسٹ حکومتی اداروں اور وائٹ ہاؤس میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا اخبار ہے اور امریکی صدر بھی اس اخبار کو پڑھتے ہیں۔

خیال رہے کہ بلوچ ریپبلکن پارٹی کی قیادت بلوچ رہنما نواب براہمدغ بگٹی کررہے ہیں جبکہ ورلڈ بلوچ آئرگنائزیشن کے سربراہ میر جاوید مینگل ہیں اور دونوں اس وقت جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری بی آر پی اور ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن کی مشترکہ آگاہی مہم نے ریاستی اداروں کو پریشانی میں مبتلہ کردیاہے کیونکہ پاکستان میں مظلوم اقوام کو اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے پر جبری طورپر لاپتہ یا قتل کردیا جاتا ہے جبکہ ویسٹرن ممالک میں ہر شخص کو اپنی خیالات کے اظہار کا حق حاصل ہے، پاکستان جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری اس مہم کو روکھنے کی ہر ممکن کوششیں کرتا رہا ہے لیکن ہر بار ریاستی اداروں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں