واشنگٹن میں اللہ نذر کی نمائش

کوئٹہ/مضمون(ریپبلکن نیوز) پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کے دورہِ امریکہ کے دوران واشنگٹن میں وائٹ ہاوس کے باہر ایک ٹرک نمودار ہوا جس کے زریعے ڈاکٹر اللہ نذر کے تصاویر کی نمائش کی گئی۔

ڈاکٹرا للہ نذر کے مسلح تصاویر کیوں اورکس کے کہنے پر اشہاری مہم کے زریعےنمایا کیے گئے تھے اب تک واضح تو نہیں ہوسکا ہے لیکن اس حوالے سے بلوچستان لبریشن فرنٹ کی خاموشی اشارہ کرتی ہے کہ یہ سب کچھ بی ایل ایف کی رضا مندےسے ہی کیا گیا تھا۔

دوسری جانب ایک متنازعہ شخص طارق فتح نے ان تصاویر کو شائع کیا تھا جسکے بعد سوشل میڈیا پر بلوچستان لبریشن فرنٹ کے حمایتیوں کی جانب سے انہیں پسند بھی کیا گیا۔

اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ واشنگٹن میں ڈاکٹر اللہ نذر کے مسلح تصاویری مہم سے تحریک کو فائدہ پہنچ سکتا ہے یا نقصان، میری ناقص رائے کے مطابق مغربی ممالک میں مسلح کمانڈروں کی نمائش تحریک کے لیے نقصاندہ ثابت ہوسکتی ہے۔

اگر اللہ نذر کا ایک ویڈیو پیغام بھی چلایا جاتا جس میں بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ریاستِ پاکستان کی جنگی جرائم سے پردہ اٹھایا جاتا تب بھی ٹھیک تھا لیکن اللہ نذر اور ساتھیوں کے مسلح تصاویر شائع کر کے کیا پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے سمجھ سے بالاتر ہے۔

ایک اور اہم بات اس مہم کی ٹائمنگ ہے، عمران خان کے دورہِ امریکہ کے دوران بلوچ ریپبلکن پارٹی اور ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن کی جانب سے منظم انداز میں بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بالخصوص جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو اجاگر کیا جارہا تھا کہ عین اسی دوران اللہ نذر اور ساتھیوں کے مسلح تصاویر واشنگٹن کی سڑکوں پر نمودار ہوئے۔

مزید مضامین:
بندوق بردار اشتہارات!
شهیدانی لوٹ ءُ انوگیں بلوچ تنظیمی جاور
ایک بزرگ دوست واجہ سرفراز بنگلزی

اب تک بلوچستان لبریشن فرنٹ کی جانب سے اس مہم کے حوالے سے کوئی تفصیلات شائع نہیں کیئے گئے لیکن بلوچ حلقوں میں اسے تحریک کے لیے نقصاندہ قرار دیا جارہا ہے۔

بلوچ قوم پرست جماعتیں ایک عرصے سے مغربی ممالک میں خود کو مظلوم ظاہر کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ انہیں کسی نا کسی طریقے کی حمایت حاصل ہوسکے، شائد یہی وجہ ہے کہ حالیہ چند عرصوں میں قوم پرست آزادی پسند جماعتوں نے اپنی سرگرمیوں کا طریقہ کار بھی بدل دیا ہے تاکہ انہیں مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہوسکے۔

دوسری اہم بات آج تک مغربی ممالک میں مسلح تنظیموں نے کسی قسم کی سرگرمی میں حصہ نہیں لیا، اب اچھانک ایک کامیاب آگاہی مہم کے مقابلے میں مسلح کمانڈروں کے تصاویر کی نمائش نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے جنہیں بی ایل ایف کی جانب سے جاری تفصیلات کے بعد ہی نمٹا جاسکتا ہے۔

بلوچ ریپبلکن پارٹی اور ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن کا مشترکہ آگاہی مہم آٹھ جون سے جاری ہے جس میں پہلے برطانیہ اور اسکے بعد امریکہ میں بلوچستان میں ہونے والی ریاستی جارحیت، جبری گمشدگیوں کا مسئلہ اور فوجی کاروائیوں کے دوران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بڑے پیمانے پر اجاگر کیا جارہا ہے جو اب تک دنیا کی توجہ حاصل کرنے میں اب تک کی سب سے کامیاب آگاہی مہم ثابت ہوئی ہے۔

مغربی ممالک میں بلوچ قومی تحریک کے لیے مدد یا حمایت حاصل کرنے کے لیے ہمیں پہلے ثابت کرنا پڑیگا کہ ہم مظلوم قوم ہیں اور ہم پر ظلم ڈھایا جارہا ہے اور یہ کام چند بندوق بردار کمانڈروں کے تصاویر کی نمائش سے بالکل نہیں ہوگا بلکہ ان لاپتہ افرادکے تصاویر کو دنیا کے سامنے رکھنے سے ہوگا جو ریاستی زندانوں میں اذیتوں سے گزر رہے ہیں۔

تحریر : میرجان بلوچ 
نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں