وشوڑی، شہید شاہ محمد بگٹی | ریپبلکن | مضمون

مضمون (ریپبلکن نیوز) وشوڑی، شہید شاہ محمد بگٹی

تحریر: رامین بگٹی

آج بلوچ ریپبلکن پارٹی کے رہنما شہید شاہ محمد بگٹی کی نویں برسی منائی گئی۔ شاہ محمد بگٹی کو پانچ دسمبر 2010 کو پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے روجھان مزاری کے قریب سے اغوا کیا اور دو دن بعد ان کی گولیوں سے چھلنی لاش کو سوئی میں مقیم ان کے قریبی رشتے داروں کے حوالے کیا گیا۔ 

شہید شاہ محمد بگٹی کا تعلق بگٹی قبیلے کی راہجہ شاخ کے مندوانی ٹکر سے تھا اور ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی میں رہا کرتے تھے۔ 

شہید شاہ محمد بگٹی بی آر پی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی کے بڑے بھائی تھے اور ان کا خاندان بہت سالوں سے ڈاڈائے قوم شہید نواب اکبر خان بگٹی کے بہت قریب رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک صبع جب شاہ محمد بگٹی سوئی شہر سے نکل کر دولی کی طرف اپنے زمینوں کی جانب جارہے تھے تو سوئی کے خارجی راستے چائنہ چوک پر تعینات پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے ان پر فائرنگ کر کے انہیں شدید زخمی کردیا اور پھر انہیں شدید زخمی حالت میں حراست میں لیا گیا اور بہت عرصہ تک انہیں جیل میں کاٹنا پڑا۔ 

آج بھی یہ خاندان بلوچ رہنما قائد بلوچ ریپبلکن پارٹی نواب براہمدغ بگٹی کے سب سے قریب اور وفادار جانے جاتے ہیں۔  

شہید شاہ محمد بگٹی بنیادی طور پر سوئی کے پی پی ایل میں ملازم تھے مگر اپنے خاندانی کاروبار اور شہید نواب اکبر خان بگٹی سے قربت کی وجہ سے سوئی شہر کے مالدار لوگوں میں ان کا خاندان شمار ہوتا۔

مگر ڈیرہ بگٹی میں جنگ کا آغاز ہوا تو شہید شاہ محمد بگٹی بھی اپنے زندگی کے تمام آسائشیں چھوڑ کر ڈاڈائے قوم کی تحریک سے مکمل طور پر وابستہ ہوگئے۔ 

شہید شاہ محمد بگٹی بہت نرم اور نفیس مزاج کے مالک تھے اس لیئے پارٹی میں سنگت انہیں وشوڑی کے نام سے جانتے تھے وشوڑی کا مطلب میٹھا ہوتا ہے۔ انھونے اپنی پوری زندگی سچائی اور ایمانداری سے اپنے وطن اور قوم کیلئے جدوجہد کرتے ہوئے گزاری۔ 

مزید خبریں اسی بارے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں