ٹوئیٹر پر سردار مینگل و سرفراز کے درمیان بحث، نوجوانوں نے سرفراز کو اداروں کا چمچہ قرار دیا

سوشل میڈیا ڈیسک رپورٹ (ریپپبلکن نیوز) سوشل میڈیا پر گزشتہ شب بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما اور سٹبلشمنٹ کے حمایت آفتہ سرفراز بگٹی کے درمیان لفاظی جنگ کے بعد سوشل میڈیا استعمال کرنے والے نوجوانوں نے سردار اخترجان مینگل کے موقف اور رویئے کو سراتے ہوئے تعریف کی جبکہ سرفراز بگٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ٹرول کیا۔ 

دلچسپ بات یہ رہی کہ بگٹی قبیلے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے بھی سردار مینگل کی حمایت میں ٹوئیٹس کرتے ہوئے سرفراز پر کڑی تنقید کی۔ سوئی کے نوجوانوں نے سوئی آن لائن کے صفحے پر ایک پول چلایا جس میں ۹۰ فیصد لوگوں نے سردار اختر مینگل کے حق میں اپنی رائے دی۔ 

بحث میں حصہ لیتے ہوئے بی آر پی کے کارکن عزیزاللہ بگٹی نے لکھا ہے کہ تعجب کی بات تو یہی ہے کہ سرفراز جس کو وردی والوں کے علاوہ کوئی گھاس تک نہیں ڈالتا اور سردار اختر مینگل ان جیسے لوگوں سے بحث کر رہا ہے۔ 

احمد بلوچ نامی صارف نے سرفراز کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ لگتا ہے بگٹی صاحب آپ کا اکاونٹ بھی استعمال ہورہا ہے آپ کی طرح۔ 

میر شعیب بگٹی لکھتے ہیں کہ بگٹی قوم کا فیصلہ بھی سردار آختر جان مینگل کے ساتھ ، سرفراز کے ساتھ بگٹی قوم بھی نہیں ہے 

بی آر ایس او کے سابق چیر مین خالد لال بلوچ نے لکھا کہ سرفراز بگٹی ایک بے ضمیر انسان ہے جو اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے. جو شخص بلوچ ماؤں بہنوں کے خلاف فوجی جارحیت کی حمایت کرتا ہو وہ اپنے مفادات کے لیے کس حد تک گر سکتا ہے اندازہ لگانا مشکل نہیں. اور میری نظروں میں جام کمال اور سرفراز میں زیادہ فرق نہیں.

احماد نصیر خان نامی صارف تنظزیہ انداز میں لکھتے ہیں کہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سرفراز بگٹی اپنے کاتبِ تقدیر سے آپ کی شکایت لگانے پنڈی کے لئے روانہ ہو چکے۔ 

کامران بلوچ نے لکھا کہ یہ تو ابتدا ہے سردار اختر مینگل صاحب۔۔‏ابھی آپ اور آپ کی پارٹی، بلاول اور پی پی پی اور پی ٹی ایم پر غداری کے حملے اور بڑھے گے۔جسٹس فایز عیسیٰ ،مسنگ پرسن اور وزیراستان اور بلوچستان کے بارے میں بات  کرنے پر ابھی بہت سے لوگ بہت کچھ بولیں گے۔۔

محمد امین مگسی اختر مینگل کو مشورہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ سردار صاحب غصہ تھوک دیں بڑا دل کریں اور بلوچستان کیلئے درگزر کر جائیں

نوروز بلوچ سرفراز بگٹی پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جن کی کوئی تاریخ نہیں وہ جب سیاست میں دانستہ مسلط کیے جائیں گے تو سیاست  کا یہی حال ہوگا۔

میر ایچ بی ڈونکی لکھتے ہیں کہ سرفراز بگٹی جیسے لوگوں کو چاہیے کہ بوٹ پالش پہ توجہ دیں

مرید بگٹی بلوچ نے لکھا کہ قبائل کے سربراہان اور بزرگوں کی عزت کی جاتی ہے مگر سرفراز جو پیدا اور بڑا پنجاب میں ہوئے جس کو بلوچی بولنا تک نہیں آتا ان سے بلوچی روایات اور بزرگوں کا احترام کی کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ 

منصور بگٹی نے سردار اختر مینگل کا فوٹو شئیر کرتے ہوئی ساتھ میں لکھا ‏کاش سرفراز کے نام کے ساتھ "بگٹی” نہ لکھا ہوتا یا پھر آج کے دن ہم بگٹی نہ ہوتے۔ صبح سے ایک گھٹن سی ہے

واضع رہے کہ اس بحث کے دوران بلوچ نوجوانوں کی ایک فیصد نے بھی سرفراز بگٹی کی حمایت میں کوئی ٹوئیٹ نہیں دیا جبکہ نامعلوم اکاؤنٹ مسلسل سرفراز کی حمایت میں گالم گلوچ کرتے رہے جن کے پروفائل میں فوجی افسران کے تصاویر لگے ہوئے تھے۔ 

اس بحث کے دوران سرفراز بگٹی نے سردار آختر مینگل پر زاتی نوعیت کے حملے شروع کیئے جس کے بعد سردار اختر مینگل نے لکھا کہ میں آپ کے لیول پر گر نہیں سکتا اور مجھے آپ کو بلوچ کہتے ہوئے بھی شرم آرہا ہے اس ٹوئیٹ کے بعد سردار اختر مینگل نے سرفراز بگٹی کو بلاک کردیا۔ 

یاد رہے کہ سرفراز بگٹی قبیلے کی مسوری شاخ سے تعلق رکھتے ہیں اور انھونے نے اپنی ساری زندگی پنجاب کے شہر ملتان اور لاہور میں گزاری۔ 

سرفراز بگٹی اپنے آبائی ضلع میں کرپشن اور دروغ گوئی کی وجہ سے بے حد بدنام ہیں۔ جبکہ 2006 میں فوجی اور قبائل کے درمیان کشدیگی کے بعد عسکری اداروں نے سرفراز بگٹی اور ان کے والد کو واپس ڈیرہ بگٹٰی میں واپس لے آئے، اس سے قبل بگٹی قبائل کے لوگ سرفراز بگٹی کے خاندان کے لوگوں کو پیلاوغ اور مریج کے علاقے سے گزرنے بھی نہیں دیتے تھے کیونکہ وہ اہنے علاقے میں لوگوں کو آپس میں لڑانے کییلئے ہر طرح کی کوشیش کرتے تھے ۔

سرفراز بگٹی کو گزشتہ انتخابات میں نامعلوم افراد نے ایم پی اے بنانے کے بعد وزیر داخلہ کی وزارت بھی سونپ دی تھی مگر عوام میں سرفراز کے متعلق نفرت بڑھتا گیا جس کے بعد نامعلوم افراد نے حالیہ انتخابات میں اس کی حمایت نہیں کی اور وہ بری طرح شکست سے دوچار ہوگئے اور نوابزادہ گہرام خان بگٹی بھاری اکثریت سے جیت گئے۔ 

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں