پاکستانی میڈیا کا ناکام پروپیگنڈا، گوادر حملے میں ملوث مزاحمتکار کو مسنگ پرسن قرار دے دیا

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچستان کے ساحلی شہر اور چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں کا مرکز گوادر میں ہونے والے حملے میں بلوچ لبریشن آرمی کو پاکستانی میڈیا نے مسنگ پرسن قرار دے دیا۔

پاکستانی نیوز ویب سائٹ ٹائمز آف اسلام آباد نے غلط رپورٹ شائع کرتے ہوئے دعوعٰ کیا ہے کہ گوادر حملے میں شامل حمل خان ولد قادر خان کا نام لاپتہ افراد میں شامل تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حمل خان گزشتہ دو سالوں سے لاپتہ تھا جس کا نام لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل تھا۔

مزید خبریں: 

گوادر حملہ شہید جنرل اسلم بلوچ کے فلسفے کا ایک عملی اظہار ہے۔ بی ایل اے

دس گھنٹوں کی جنگ کے بعد بلوچ مزاحمتکاروں نے اپنی آخری گولی اپنے جسم میں اتار دی

گوادر حملہ جاری, متعدد چینی اور ریاستی اہلکار ہلاک، ہوٹل سے گوادر پورٹ پر متعدد راکٹ فائر

گوادر حملے پر پاکستانی فوج کی غلط بیانی، بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو جھوٹا دلاسہ دینے کی کوشش

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستانی میڈیا عسکری اداروں اور حکومتی حکام نے اس طرح کے بے بیاد اور جھوٹ پر مبنی دعووں کا سہارا لیا ہے، تاکہ لاپتہ افراد کے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنایا جاسکے لیکن ہر بار ریاستی اداروں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں