پاکستان اور امریکہ کے درمیان سمجھوتہ، چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ اپنے اختتام کے قریب

کوئٹہ/رپورٹ (ریپبلکن نیوز) چین کی پاکستان میں سب سے بڑی سرمایہ کاری، چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ اپنے اختتام کے انتہائی قریب ہے۔

بین الاقوامی اور پاکستانی زرائع ابلاغ میں ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ سمجھوتہ کرلیا ہے جس کے بدلے میں امریکہ نے پاکستان پر واضح کردیا ہے کہ اسے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں پر کام کو فوری طورپر بند ہوگی۔

شائد اسی لیے عالیہ چند عرصوں سے سی پیک پر کام نا صرف سست روی کا شکار ہے بلکہ بہت سے منصوبوں پر کام مکمل طورپر رک چکا ہے۔

مختصر عرصے میں پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان دوسری مرتبہ امریکہ کے دورے پر ہیں جہاں انکی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات بھی متوقع ہے۔

امریکہ چین کی خطے میں بڑھتی ہوئی اثررسوخ سے ناخوش ہے، اور چین پاکستان اقتصادری راہداری منصوبوں کی کامیابی سے نا صرف خطے میں امریکی مفادات کو نقصان ہوگا بلکہ بلوچستان میں بلوچوں کی آبادی کا تناسب بھی بگڑجائیگا۔

بلوچستان میں چین سرمایہ کاری کے نام پر اپنے فوجی مقاصد بھی حاصل کرنا چاہتا ہے، گوادر پورٹ پر مکمل قبضہ جمانے کے بعد چین خطے میں اپنے فوجی مقاصد کے حصول کی کوشش کریگا جو امریکہ کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگا۔

سی پیک کی کامیابی سے نا صرف امریکہ کو نقصان ہوگا بلکہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت بھی اس سے شدید متاثر ہوگا، اسی لیے بھارت پہلے ہی مغربی بلوچستان کی مندرگاہ چابہار میں سرمایہ کاری کرچکا ہے۔ اس طرح چین اور بھارت ایک دوسرے کو آنکھیں دکھا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ چین ہندوستان اور پاکستان ہندوستان ماضی میں جنگوں میں کود چکے ہیں، اور اس بار جنگ کی شکل مختلف ہے، لیکن اس تمام تر صورت حال میں بلوچ قوم پس رہی ہے۔

بلوچ آزادی پسند جماعتیں شروع دن سے ہی بلوچستان میں چینی منصوبوں کے سامنے سیاسی اور مسلح محاز پر سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کی کامیابی بلوچ قوم کی موت ہے، ان کی کامیابی سے بلوچ قوم اپنی ہی سرزمین میں اقلیت میں بدل جائیگی اور اپنے ہی سرزمین میں غیر ہوجائیگی۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں