پاکستان ہندوستان کا تغصہ افغانستان پر کیوں نکال رہا ہے؟

کوئٹہ/مضمون(ریپبلکن نیوز) کشمیر میں آرٹیکل 35 A اورآرٹیکل 370کے ساتھ ہندوستان نے اپنی تاریخ میں بنگلادیش کو آزادی دلانے میں مدد کے بعددوسری بار حقیقی طور بڑاسیاسی فیصلہ کیا ہے جس کے یقیناً دوررس نتائج برآمد ہوں گے نہیں تو پاکستان اور ہندوستان کی سرد جنگ ودشمنی سے پورا ریجن ایک عذاب مسلسل وہیجانی کیفیت سے 1947ء سے لیکر آج تک دوچار رہاہے۔ اس سے مجموعی طور پر کشمیر کامسلہ حل نہیں ہوگا لیکن اتنا ضرور ہو گا کہ پاکستان غیر ضروری اُچھل کھود سے شاید اجتناب برتے کہ کہیں کچھ اور نہ کٹا کے کھو بیٹھے۔

جبکہ ہم بلوچ اور پشتون ہندوستان کے خیرخواہ کے الزام میں ہمیشہ زیرعتاب رہے ہیں حالانکہ بلوچوں اور پشتونوں کو ہندوستان پر لگائے جانے والے الزامات کا دس فیصد بھی امداد ملتا تواس پنجابی پاکستان کا نقشہ کب کا سُکڑ کر بدل چکا ہوتا۔ اب جب پہلی بار ہندوستان نے کشمیر میں حقیقی سیاسی قدم اُٹھا کر پاکستان کو ہکا بکا کردیا تو پاکستان نے بھارت کو برابر کا جواب دینے کے بجائے افغانستان پر اپنا غصہ اُتارنا شروع کیا۔

یہاں افغانستان میں خونی حملوں میں پھر سے تیزی کا رحجان بڑھا وہاں پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس بات کی گونج سُنائی دی کہ اگر کشمیر میں امن نہیں ہوگا تو کابل میں کیسے امن ہوسکتا ہے؟ اس ایک جملے سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ چالیس سال سے افغانستان کے خانماں بربادی کے پیچھے کس کا ہاتھ اور کس کے مزموم عزائم ہیں۔

پاکستان کاافغانستان پر غصے کی اصل وجہ:  پاکستان شروع دن سے افغانستان پر نظر بدگاڑھے ہوئے ہے لیکن اب جب وہ افغانستان میں اپنی نمائشی طالبان امریکہ گفت و شنید کے زریعے اپنے مقصد کے بالکل قریب تھا کہ ہندوستان نے ایسی کاروائی کی کہ پاکستان مکمل طور پر چکرا کے رہ گیا۔ وہ افغانستان میں طالبان کے زریعے امریکہ کو دھوکہ دے کر نہ صرف ریجن سے نکالنے کا خواب دیکھ رہا تھا بلکہ اپنی کٹھ پتلی حکومت کے زریعے ہندوستان کو افغانستان سے نکالنے کا خواب دیکھ رہا تھا۔

یہ الگ بات ہے کہ ہندوستان کے مقابلے میں اُس کے پاس افغانستان کو دینے کچھ نہیں۔ چونکہ اُس کا مقصد افغانستان کی آبادی اور امن نہیں صرف اُسے دست نگر رکھکر ہندوستان کو بے اثر کرنا تھا سو وہ کسی حد تک اسمیں کامیاب بھی ہوا اب جب ہندوستان نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تو اُس کا توجہ افغانستان میں چالیں چلنے کے بجائے کشمیر پر مرکوز ہوگیا اس لئے اُس نے جذبات و سراسیمگی میں لاشعوری طور پر سچ کہکر بظاہر دو مختلف اور آپس میں کوئی ربط نہ رکھنے والے افغان و کشمیر مسائل کو اپنے اسمبلی کے فورم میں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کے پیش کیا۔

افغانستان پر اپنا غصہ اُتارنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ آج پاکستان کسی بھی وقت سے بدتر عالمی طور پر تنہاو داخلی طور پر اقتصادی طور سے لیکر،اخلاقی و سیاسی طور پر دیوالیہ پن کا شکار ہے چین سمیت پوری دنیا میں اُس کا کوئی دوست نہیں رہا۔ہندوستان کو سخت جواب دینے نہ اُس کے بازؤں میں دم ہے اور نہ ہی سفارتی طور پر اس کا وہ اعتباررہاہے کہ کوئی ملک یا بین القوامی ادارہ اُس کی باتیں ہندوستان کے خلاف قابل توجہ قرار دے۔ اس ضمن میں وہ امریکہ پر بھی بہت برہم ہے کیونکہ اُس کے خیال میں اُس نے طالبان کو افغان مسلہ حل کیلئے بات چیت پر راضی کرکے خود کو پھر سے امریکہ کا وفادار ثابت کیا لیکن امریکہ ابھی تک اعتبار کررہا نہ بند شدہ مدد مکمل کھول رہا اور نہ افغان و کشمیر مسائل کو مربوط دیکھنے تیار ہے اُوپر سے اُس کا بیانیہ ہند کے فیصلے کی توثیق معلوم ہوتی ہے بجائے اس کے کہ پاکستان کی طرفداری میں کچھ بولے۔

مزید مضامین:
بلوچ مسجد سے سائیں جی ایم سید کا آستانہ "حیدر منزل تک "
سی پیک سے چین کے بیدخلی کاپاکستانی منصوبہ
کنوے کا مینڈک اور چیئرمین خلیل

امریکہ کی طرف نمائشی جھکاؤ سے پاکستان کہیں نہ کا رہا روس کیساتھ جس تعلقات کے بہتری کی باتیں شروع کی جارہی تھیں آغاز سے پہلے انجام کو پہنچیں چین کونکالنے بدلے جس افغانستان و بلوچستان کے قسمت کا سودا کیاگیا تھا نئی صورتحال میں افغانستان پر حاکمیت اور بلوچ کو کچلنا دور کی بات ہے چین کا دیرینہ ساتھ بھی چھوٹ گیا۔ پاکستان کی افغانستان پر غصہ اس لئے بھی آتا ہے کہ اُسے ستمبر تک وہاں ایک اہم کام کرنا تھے جو اب یقیناً متاثر ہوگا۔ وہ کام یہ کہ افغانستان میں کسی بھی صورت صدارتی انتخابات نہ ہونے پائیں جس کیلئے تین مختلف زرائع سے دباؤ بنایا جارہا تھا ایک طرف طالبان امریکہ سے بار بار صدارتی انتخابات کو موخر کرنے کا مطالبہ رکھ رہے تھے دوسری طرف پاکستانی پیرول کے دہشتگرد دہشتگردانہ کاروائیوں میں تیزی لاکر یہ تاثر پیدا کرنا چاہتے تھے کہ اس ماحول میں الیکشن کا انعقاد ممکن نہیں تیسری طرف اپنے براہ راست و در پردہ سیاسی و سماجی حمایتیوں کے زریعے یہ مطالبہ رکھ کرعوامی طور پر دباؤ بڑھارہے تھے کہ صدارتی انتخابات مسلے کا حل نہیں اور اشرف غنی اپنی ٹیم کیساتھ تمام سیاسی عمل سے الگ ہو جائے۔

لیکن ہندوستان کے اس نئے فیصلے نے ان سب منصوبوں کو بُری طرح متاثر کیا۔ افغانستان میں خونریزی پھیلانے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان چونکہ ایک بلیک میلر ملک ہے وہ افغانستان کو امریکہ کی کمزوری سمجھ کر اُسے مورد ہدف قرار دیتا ہے تاکہ اس کمزور کڑی کی توسط سے امریکہ کو اپنی حمایت پر مجبور کیا جائے۔یہی وجہ ہے کہ اُس کے پارلیمنٹ میں جان بوجھ کر دو یکسر مختلف مسائل کو آپس میں جوڑ کے دیکھنے کی گئی اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ اگر آپ ہندوستان سے کشمیر ہمیں لیکر نہیں دیں گے تو ہم آپ کے حمایتی افغانوں کا قتل عام کرائیں گے جووہ انقلاب ثور سے لے کر آج تک کرتے چلے آرہے ہیں مگر چند افغان لیڈر اور امریکہ کو یہ بدنیتی،منافقت ومداخلت سمجھنے میں دشواری درپیش ہے جو وہ ابھی تک پاکستان بارے ٹھوس پالیسی بنانے کامیاب نہیں ہوئے ہیں اور اُس سے خیرکی تمنا میں پے در پے نقصانات اُٹھاتے آرہے ہیں۔

پاکستان اس لئے بھی مسلمان ہمسایے پر سیخ پاہے کہ کشمیر میں پلوامیہ اٹیک کے بعد ہندوستانی زبردست عسکری کاروائیوں و سفارتی لابنگ  کی وجہ سے وہاں دہشتگردانہ کاروائیوں کو برقرار رکھنا دشوار ہوگیا اور اس نے داعش، القاعدہ،لشکر طیبہ و جیش محمد سمیت ایک درجن سے زائد جہادی تنظیموں کو پاک افغان سرحد پر آباد کیا اب اگر افغانستان میں حالات اُس کے سناریوکے مطابق نہیں رہے او روہاں ایک پاکستانی کٹھ پتلی کئیرٹیکر حکومت یا مکمل طالبان کی حکومت نہیں آئی تو ان سارے جہادیوں کیلئے افغانستان میں زمین تنگ ہوگی جو یا تو مارے جائیں گے یا بکھر جائیں گے جو کسی بھی صورت پاکستان کو قابل قبول نہیں۔ حرف آخر:  اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستانی بیانیہ کو سمجھنے میں اتنی دشواری نہیں ہوگی کہ وہ کیوں افغان مسلے کو کشمیر کے مسلے سے جوڑ رہا ہے۔ اُسے کشمیر کے ساتھ اس بات کا بھی خوف ہے کہ اگر افغانستان نے صرف تین قدم ایک ساتھ اُٹھائے تو وہ (پاکستان)داخلی طور پر اتنے ٹکڑوں میں بکھر جائے گا کہ اُسے سمیٹنا مشکل ہو جائے۔

پہلا افغانستان جس طرح سے بلاامتیاز عسکری کاروائیاں کررہا ہے اُن میں مزید شدت لائے دوسرا وہ ہندوستان کی طرح اپنے داخلی معاملات میں پاکستان مداخلت کا کیس ٹھوس بنیادوں پر بین القوامی فورمز میں رکھے جسمیں افغانستان ابھی تک کبھی موثر طریقے سے فائل بنانے کامیاب نہیں ہوئے ہیں نہیں تو افغانستان جہاں روزانہ پاکستانی دہشتگرد مارے یا پکڑے جاتے ہیں۔ اگر پکڑے جانے والوں کے بیانات کی روشنی میں نئی بین القوامی دہشتگردی کے خلاف جنگ کے قوانین کے مطابق عمل کیا جائے تو پاکستان کے آدھے سے زیادہ ملا دہشتگردوں کو تربیت دے کر افغانستان بھیجنے کے جرم میں اپنے مدارس کے ساتھ غائب ہوں گے۔

ایف اے ٹی ایف  کے زریعے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے افغانستان میں دہشتگردوں کی مداخلت میں پاکستانی معاونت کے دلائل ہی کافی سے بھی زیادہ ہوں گے۔ تیسرا اور سب سے اہم بلوچ و پشتون آزادی پسند قوتوں کی کھل کر حمایت اور اُن کی ہر طرح سے مدد کرکے فضا موافق بناناتاکہ وہ نہ صرف اپنی آزادی لے سکیں بلکہ اس ناسور کی ڈاؤن سائزنگ میں مددگار ثابت ہوں جس نے ریجن سمیت پوری دنیا کو دہشتگردوں کے ایک خوف مسلسل سے دوچار کیا ہے۔

تحریر : حفیظ حسن آبادی
 نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں