چینی کمپنی کا بلوچستان سے مزید وسائل نکالنے کے لیے حکومت سے لائسنس جاری کرنے کا مطالبہ

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز) سیندک کاپراینڈ گولڈ پراجیکٹ پر کام کرنیوالی چینی کمپنی ایم آر ڈی ایل کے چیئرمین ہی زوپینگ نے کہا ہے کہ سیندک منصوبے پر مزید کام کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے ہماری درخواست پر مزید تلاش کیلئے لائسنس جاری نہ کیا گیا تو یہ منصوبہ 2021 میں بند ہو جائے گا۔

منصوبے سے ہونیوالی پیدوار کی ماہانہ بنیاد پر صوبائی حکومت کو رپورٹ بھیجی جاتی ہے جبکہ اس سلسلے میں مانیٹرنگ کا پورا نظام بھی موجود ہے جس میں مختلف حکومتی ادارے بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

منصوبے سے اب تک منافع کی مد میں سیندک میٹل لمیٹڈ کو 30کروڑ 22لاکھ 24ہزار 8سو 52 ڈالر رینٹ کی مد میں 77لاکھ 50ہزار ڈالر حکومت پاکستان کو انکم ٹیکس کی مد میں 58کروڑ 96لاکھ 43ہزار روپے جبکہ حکومت بلوچستان کو 8 ارب 48کروڑ 45لاکھ روپیسے زائدرائلٹی، پریزیمپٹیو ٹیکس کی مد میں ایکسپورٹ پروسسینگ زون (ای پی زیڈ) کو 2 کروڑ 22 لاکھ 57 ہزار ڈالر، ای پی پی سرچارج کی مد میں ایک کروڑ ڈالر اور علاقے کی سماجی ترقی کیلئے سی ایس آر کی مد میں صوبائی حکومت کو 55لاکھ ڈالر سے زائد ادا کر چکے ہیں۔

کمپنی کی جانب سے مزید وسائل کی تلاش کیلئے درخواستیں زیر التواء ہیں امید ہے کہ صوبائی حکومت جلد اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کریگی ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیندک منصوبے کا دورہ کرنے والے کوئٹہ کے صحافیوں کے وفد کو اپنے دفتر میں بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر کمپنی کے چینی اور پاکستانی افسران کی بڑی تعداد موجود تھی انہوں نے سیندک منصوبے کا دورہ کرنے والے صحافیون کو خوش آمدید کہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ میڈیا منصوبے سے متعلق حقائق عوام تک پہنچانے میں کردار ادا کرئے گا۔

انہوں نے کہا کہ سیندک منصوبہ دور دراز سرحدی علاقے میں ہے یہ علاقہ پسماندہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں کا موسم بھی بڑا سخت ہے سیندک میں وسائل پہلی مرتبہ 1960کے عشرے میں دریافت ہوئے تاہم باقاعدہ کام آغاز 1989میں شروع ہوا اس طرح منصوبے کو اب 30سال مکمل ہو چکے ہیں۔

منصوبے پر سیندک میٹل لمیٹڈ نے 1995میں کام شروع کیا جبکہ ایم آر ڈی ایل یہاں 2003میں آئی جس کے بعد یہاں سے پیدوار کا سلسلہ شروع ہوا منصوبے پر اس وقت کل 1915ملازمین کام کر رہے ہیں جن میں سے 246چینی اور دیگر مقامی ملازمین ہیں منصوبے پر عالمی سطح پر طے شدہ معیار کے مطابق اوقات کار مقرر ہیں مختلف شعبوں میں مختلف سطح کے ملازمین کیلئے تنخواہوں کے باقاعدہ اسٹرکچر موجود ہیں تا ہم تمام ملازمین کو سالانہ 12کی بجائے 13 تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں جن میں ایک اضافی تنخواہ بونس کے طور پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ منصوبے سے ہونیوالی پیدوار کی مانیٹرنگ کیلئے صوبائی حکومت کے مختلف اداروں کے نمائندے موجود ہیں جبکہ کمپنی کی جانب سے اس سلسلے میں ہر ماہ باقاعدگی سے صوبائی حکومت کو رپورٹ ارسال کی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہاں کام کرنے والے تمام شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ملازمین کیلئے ترقی کے یکساں اور بھرپور مواقع موجود ہیں مختلف شعبوں میں بھرتی کیلئے اہلیت اور معیار مقرر کئے گئے ہیں بھرتی کے بعد نئے ملازمین کی ٹریننگ پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر قطعی طور پر درست نہیں کہ مقامی افسران کو اہم عہدوں پر تعینات نہیں کیا جاتا اس وقت منصوبے پر کام کرنے والے 20میں سے صرف چند افسران چینی ہیں جبکہ باقی تمام مقامی ہیں انہوں نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ مقامی ملازمین کو بلا جواز ملازمتوں سے نکال دیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح ملازمت دینے کیلئے ایک پورا طریقہ کار ہے اسی طرح ملازمت کیلئے بھی مکمل قواعد و ضوابط موجود ہیں جن کیخلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف یقینی طور پر کارروائی کی جاتی ہے۔

انہو ں نے کہا کہ ہم اس منصوبے پر 1989 سے کام کر رہے ہیں جو حکومت پاکستان صوبائی حکومت متعلقہ اداروں اور میڈیا کے تعاون سے اب تک کامیابی ممکن ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ الاٹ شدہ علاقے میں وسائل ختم ہوتے جا رہے ہیں۔

مزید تلاش کیلئے حکومت کو لائسنس جاری کرنے اور زمین الاٹ کرنے کیلئے درخواستیں دے چکے ہیں جو التوا میں ہیں اگر اس سلسلے میں حکومت نے جلد فیصلہ نہ کیا تو خدشہ ہے کہ منصوبے پر 2021تک کام بند ہو جائے گا اور ہم نہیں چاہتے کہ منصوبے پر کام بند ہو اس سے علاقے کے لوگوں کا روز گار ختم ہو جائے گا جبکہ حکومت کو ہونے والے آمدنی بھی بند ہو جائیگی امید ہے کہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں جلد کوئی فیصلہ کریگی اور موجودہ سائیٹ کے شمالی سمت میں مزید تلاش کیلئے لائسنس جاری کریگی۔

مزید خبریں اسی بارے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں