ڈاڈائے قوم شہید نواب اکبر خان بگٹی

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) آج کے دور میں بہت کم لوگ ملیں گے جو دوسروں کیلئے کچھ اچھا سوچتے ہو یا پھر کچھ اچھا کرنا چاہتے ہو۔ ہاں شائد خیراتی ادارے قائم کر کے کوئی کسی کے مدد کرنے کی خواہش رکھتا ہوں مگر اس کے پیچھے بھی زیادہ تر لوگوں کے اپنے مقاصد ہوتے ہیں۔

بنا کسی مفاد کے محض لوگوں کے اچھائی کیلئے قربانی دینے والے شائد کئی نہ ملیں سیاستدان ہوتے ہیں جو ووٹ اور کرسی کیلئے لوگوں سے بڑے وعدے تو کرتے ہیں مگر پھر اسمبلیوں میں پہنچنے کے بعد غائب ہوجاتے ہیں۔

اب یہاں پر شاید کوئی فوجیوں کا زکر کرنا چاہے گا کہ وہ بنا کسی غرض کے لڑتے ہیں تو یہ بھی شاید درست نہیں ہوگا اگر چھ مہینے فوجی کی تنخوا بند ہوجائے اگلے ہی دن وہ ڈیوٹی سے غائب ہوجائے گا۔

مگر اس صدی میں ایک شخص ایسا بھی تھا جو ان سب سے الگ تھا، مال و دولت کے حساب سے شاید اس خطے کی امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتا تھا اور ہمیشہ اسی کوشش میں رہا کہ ان کے لوگ ایک بہتر زندگی گزار سکیں۔ جی بالکل شہید نواب اکبر خان بگٹی کی وہ ہستی ہیں جن کی بات ہورہی ہے۔ جس نے ہمیشہ مجموعی قومی مفادات کی بات کی ہے اور قومی مفادات کو عظیم سمجھا۔

شہید نواب اکبر خان بگٹی کے ساتھ ماضی میں کچھ بلوچ رہنما جن کا تعلق نیب سے تھا کے ساتھ تعلقات کچھ اچھے نہیں رہے نیب رہنماؤں نے نواب بگٹی کے ساتھ جو رویے اختیار کیئے وہ تاریخ کا حصہ ہیں مگر جب قوم کو درپیش خطرات کا علم ہوا تو سب سے پہلے نواب اکبر بگٹی نے قدم بڑھایا اور سب کو اکھٹا کیا۔

ڈاڈائے قوم شہید نواب اکبر خان بگٹی ایک تاریخ ساز شخصیت تھے انھونے پرآسائس زندگی کو چھوڑ کر پہاڑوں کو اپنا مسکن بنایا اور آخری دم تک قوم کیلئے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ان کے پاس کسی بھی چیز کی کوئی کمی نہیں تھیں مگر پھر بھی انہوں نے قومی مفادات کو ترجیح دی۔

شہید ڈاڈائے قوم جیسے لیڈر صدیوں میں شائد ہی پیدا ہوں، ہمیں ان کی قربانیوں کا احترام کرتے ہوئے اپنے آنے والی نسلوں کو بھی اپنے لیڈران کے قدر اور ان کی جدوجہد کے بارے میں آگاہ کرنا چایئے۔

 تحریر: رامین بگٹی
نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں