کشمیر میں مظالم پر بات کرنیوالوں کو بلو چستان میں مظالم کیوں نظر نہیں آتے: سردار اخترمینگل

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز)  بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ و رکن قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کو کمزور کرنے کے لئے فارمی پارٹیاں بنائی گئیں ان جماعتوں کو پہلے بھی شکست دی آئندہ بھی دیں گے۔

وفاقی حکومت کو پیغام دے دیا ہے کہ چھ نکات پر عمل کر سکتی ہے تب بھی بتا دیں اگر نہیں کر سکتی تو بھی بتا دیں،کشمیر میں جاری مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کے سا تھ ساتھ بلوچستان میں جار ی مظالم کا بھی خاتمہ کیا جانا چاہیے،ضمیر فروشی اور پارٹیاں تبدیل کرنے والے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں،ہم پر تنقید کرنے کا صرف عوام کو حق ہے اگر عوام کہے تو ایک منٹ سے قبل سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں سے مستعفیٰ ہو جائیں گے۔

یہ بات انہوں نے منگل کو کوئٹہ میں سابق نائب ناظم حاجی ولی محمد لہڑی کی اپنے ساتھیوں سمیت بی این پی میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، تقریب سے رکن قومی اسمبلی آغا حسن بلوچ،نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی،ملک عبدالولی کاکڑ، رکن صوبائی اسمبلی احمد نواز بلوچ نے بھی خطاب کیا، سردار اخترمینگل نے کہا کہ بی این پی نے ہمیشہ مشکلات برداشت کیں ہم پر اچھے دن کبھی نہیں آئے جبکہ ہماری قربانیوں،بائیکاٹ،اصولی موقف پرقائم رہنے اور جدوجہد کا فائدہ ان لوگوں نے اٹھایا جنہیں بلوچستان کے عوام سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ایسی کونسی جادو کی چھڑی ہے جسے استعمال کر کے ایک رات میں پارٹیاں بن جاتی ہیں فارمی پارٹیاں ہمیں کمزور کرنے کے لئے بنائی گئیں 2018میں بھی ہم نے ان پارٹیوں کو شکست دی آئندہ بھی دیں گے شکست انکا اور فتح ہمارا مقدر ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2018کے انتخابات سے قبل ہم نے عوام سے کوئی خوشنما وعدہ نہیں کیا اور نہ ہی انہیں سبز باغ دیکھائے لیکن ہم نے عوام سے یہ وعدہ کیا تھا کہ ہم انکی ننگ و ناموس کی حفاظت کریں گے جو بی این پی سینٹ،قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں کر رہی ہے، جنہوں نے ضمیر کا سودا کیا اور پارٹیاں تبدیل کیں آج کو اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں ضمیر فروش عوام کی ننگ و ناموس کی حفاظت نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جنکی اپنے گھروں میں عزت نہیں آج وہ ہم پر اور ہماری سیاست پر تنقید کر رہے ہیں ہم پر تنقید کا حق اس عوام کو ہے جسکے حقوق کی آواز ہم بلند کر رہے ہیں جنہوں نے قربانیاں دیں اور دے رہے ہیں ہم نے وفاقی حکومت سے چھ نکاتی معاہدہ کیا ہے میں خود بھی اب تک اس پر پیش رفت سے مطمئن نہیں ہوں۔

اگر بلوچستان کے عوام مطمئن نہیں اور وہ کہیں تو بی این پی کا ایک سینیٹر، 4ارکان قومی اور 10ارکان صوبائی اسمبلی ایک منٹ سے پہلے مستعفی ہو جائیں گے ہم نے مال و دولت پر اپنے قومی و اجتماعی مفادات اور مسائل کے حل کو ترجیح دی ہے اور دیتے رہیں گے،ہماری اولادیں لاپتہ، خواتین اور بچے بیرکوں میں بند ہیں ہم کیسے سکون سے بیٹھ جائیں۔

سردار اخترمینگل نے مزید کہا کہ ہندوستان کی جانب سے کشمیر پر کئے جانے والے مظالم کی بات ہو رہی ہے لیکن بلوچستان پر کئے جانے والے مظالم کی کوئی بات نہیں کرتا، ہم نہیں کہتے کہ کشمیر میں ظلم نہیں ہوا لیکن ہمارے بھی ظلم کی بات کریں بلوچستان میں پینے کا پانی،روزگار، علاج معالجے کی سہولیات، تعلیم کا فقدان ہے ہم سے یہ بلوچستان نہیں سنبھل رہا کشمیر کو کیسے آباد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزراتیں،اقتدار،مراعات آنے جانے کی چیزیں ہیں لیکن عزت، ضمیر،غیرت ایک بار چلی جائیں تو واپس نہیں ملتیں اسکی حفاظت کرنی پرتی ہے ہم روشن بلوچستان چاہتے ہیں جہاں ہر شخص کی عزت محفوظ ہو اسکے روزگار سمیت دیگربنیادی سہولیات دسترس پر ملیں مرکزی حکومت کو کہہ دیا ہے کہ اگر وہ ہمارے چھ نکات پر کام کر سکتے ہیں تو ٹھیک ہے اگر نہیں کر سکتی تو بتا دیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سیاست میں سریاب کا اہم کردار رہا ہے اس علاقے نے ہمیشہ ظلم و جبر کے خلاف مذاہمت کی اور ثابت قدم رہا یہ علاقہ بی این پی کا گڑھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوم پرستی کی سیاست کو انتشار کا شکار کرنے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر کے ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی بی این پی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ 2018کے انتخابات میں مینڈیٹ چھیننے کی کوششوں کے باوجود بھی ہمارے کارکنوں کی کوششوں سے ہم سرخرو ہوئے،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات و رکن قومی اسمبلی آغا حسن بلوچ نے کہا بی این پی کو کوئٹہ کے عوام نے مینڈیٹ دیا ہے۔

مفادات کی سیاست کرنا آسان جبکہ اصولوں کی سیاست مشکل ہے ہم نے مراعات وزراتوں پر چھ نکات کو ترجیح دی ہے بلوچستان میں ہمارا مینڈیٹ چھینا گیا بی این پی صوبے کی سب سے بڑی جماعت ہے ہم عوام کی خدمت جاری رکھیں گے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بی این پی مرکزی سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ نے کہا کہ وزیراعلیٰ حکومت بچانے کے لئے وزراء اور حکومتی اراکین میں پیسے تقسیم کر رہے ہیں صوبائی حکومت بی این پی مقبولیت سے خوفزدہ ہے ہم سے آج صوبائی تو کل مرکزی حکومت ڈرے گی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بی این پی کے مرکزی رہنماء نوابزادہ حاجی لشکر ی رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی ہر قسم سے تعصب سے بالاتر ہوکر بلوچستان کی عوام کو یکجا کر رہی ہے ماضی میں بلوچستا ن کے لوگوں کو مختلف وجوہات کی بناء پر تقسیم کیا گیاجبکہ دیگر صوبوں میں پالیسیوں اور سیاسی جماعتوں کو تسلسل رہا جس کی وجہ سے آج وہ آگے نکل گئے ہمیں بلوچستان میں انفرادی ضروریات اور مفادات کو ختم کرنا ہوگا ہمیں مفاد پرستی کی سیاست کو ختم کر نے کے لئے کردار ادا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سیاست سازشوں کا شکار رہی ہے ہمیں بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی جدوجہد کے ذریعے نکالنا ہے 22ستمبر کے جلسے میں بلوچستان کے عوام نے دہشت،پروپگینڈا،خوف کو شکست دی اور پیغام دیا کہ ہم جہالت، بے روزگاری،پسماندگی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے وفاق میں فاٹا مشہور تھا کہ فاٹا کے لوگ بکتے تھے لیکن اب بلوچستان کا نام بھی سر فہرست آچکا ہے غیر سیاسی لوگوں کو ایوانوں میں بیٹھایا گیا جو چند ٹکو ں کے عیوض بکتے ہیں یہی غیر سیاسی لوگ بلوچستان کی عوام کے حقوق کے دفاع میں ناکام رہے ہیں اور نہ ہی یہ بلوچستان کے نمائندے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بلوچستان کو اسکا وقار سیاسی عمل کے ذریعے دلوانا ہے ہمیں ظلم ناانصافی کی سیاست کو ختم کرنا ہے نام نہاد حکومت عوام کی نمائندگی اور انکے حقوق کی بات کر نے سے قاصر ہے بی این پی بلوچستان کی عوام کی نمائندگی کریگی۔

تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے میر ولی محمد لہڑی نے کہا کہ بی این پی نے ہمیشہ بلوچستان کے حقوق کی جدوجہد کی ہے بی این پی وہ واحد جماعت ہے جو بلوچستان کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے میں اور میرے ساتھ جب تک زندہ ہیں بی این پی کا ساتھ دیں گے، اس موقع پر سردار اختر جان مینگل نے میر ولی محمد لہڑی کو پارٹی کی کیپ اور مفلر پہنا کر پارٹی میں باقاعدہ طور پر شامل کیا۔

تقریب میں سینیٹر جہانزیب جمالدینی، اراکین صوبائی اسمبلی اختر حسین لانگو، میر اکبر مینگل، ثناء بلوچ، سابق رکن قومی اسمبلی میر عبدالرؤف مینگل،پارٹی کے مرکزی رہنماء غلا م بنی مری، موسیٰ جان بلوچ، ٹکری شفقت لانگو سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

دریں اثناء بلو چستان نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر و رکن قومی اسمبلی سرداراختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان کا موسم اسلام آباد کے موسم کی مناسبت سے بدلتا ہے جبکہ اسلام آباد کا موسم سیاسی جماعتوں نہیں بلکہ کسی اور کے کہنے سے بدلتا ہے موسم بدلتے دیر نہیں لگتی بارش بھی ہوسکتی ہے سیلاب بھی آسکتا ہے زلزلے کے جھٹکے بھی آسکتے ہیں ہم نے صرف حکومتیں گرانے کیلئے سیاست نہیں کی کسی بھی حکومت کی ترجیحات میں بلوچستان شامل نہ ہو ہم اسکا ساتھ نہیں دیتے اگر ایک بار پھر بلوچستان کو قربانی کا بکرا بنایا جائے گا تو پھر ہم اپنا خون بہانا نہیں چاہتے،ملک میں اگر کوئی تبدیلی آئی یا لائی گئی ہے تو وہ سیاسی نہیں بلکہ دوسری قوتوں کی طرف سے لائی گئی ہے۔

مجھے پاکستان میں سیاسی انقلاب نظر نہیں آرہابدقسمتی سے پاکستان کی سیاسی قیادت میں وہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ سیاسی تبدیلیاں لاسکیں اگر اب غیر سیاسی قوتوں کی طرف سے تبدیلی لائی جاتی ہے تو اس تبدیلی کا کیا فائدہ ہے۔

یہ بات انہوں نے منگل کی رات نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ انتخابات ہونگے 2018ء کے انتخابات میں دھاندلی سے نہ صرف ایوان سے باہر بیٹھی جماعتیں بلکہ ہم بھی متاثر ہوئے ہیں راتوں رات سیاسی جماعتیں بناکرانہیں مینڈیٹ دیا گیا۔

حقیقی نمائندوں کے نتائج تبدیل کرنے والے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور جب تک انہیں سزائیں نہیں دی جاتی آج جنہیں الیکشن جتوایا گیا ہے کل کسی اور کو جتوائیں گے یہ سلسلہ چلتا رہے گاجب تک سزا و جزا کا عمل طے نہیں ہوتا جتنے بھی الیکشن ہوں اس میں نتائج ایسے ہی آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپوزیشن کے سامنے واضح کیا ہے کہ سیاسی معاملات میں کسی بھی ادارے کی مداخلت قبول نہیں کریں گے۔

تمام ادارے اپنے دائرہ اختیارمیں رہ کر کام کریں پی ٹی آئی کی حکومت نے کم از کم یہ تسلیم کیا کہ ہمارے چھ نکات بلوچستان کے حقیقی مسائل پر مبنی ہیں یہی مطالبات ہم (ن) لیگ کے پاس بھی لیکر گئے تھے اور پیپلز پارٹی کے پاس بھی گئے تھے لیکن اس بات کا کریڈٹ پی ٹی آئی کو ملنا چاہئے کہ انہوں نے ہم سے ان نکات پر معاہدہ کیا عملدرآمد ہوا یا نہیں ہوا یہ الگ بات ہے پانچ فیصد ہودس فیصد ان مطالبات کو حل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے حکمرانوں نے ہمارے مطالبات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیااب جو پی ٹی آئی کی قیادت سے ملاقات ہوگی اس میں حتمی ڈیڈ لائن دیں گے اگر عملدرآمد نہیں ہوا تو ہم اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں میرا بس چلے تو آج کے آج مطالبات حل کریں لیکن یہ پی ٹی آئی پر منحصر ہے کہ وہ کتنا وقت مانگتے ہیں تین مہینے سے زائدہ ٹائم نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن جماعتیں یہ یقین دہانی کرائیں کہ وہ اقتدارمیں آنے کے بعد چھ نکات پر عمل کریں گی اور بلوچستان کو قربانی کا بکرا نہیں بنائیں گی تو آنے والے دنوں میں انکے احتجاج میں شریک ہونے کے حوالے سے پارٹی سے مشاورت کریں گے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں