کنوے کا مینڈک اور چیئرمین خلیل

کوئٹہ مضمون (ریپبلکن نیوز) محترم خلیل بلوچ کا حالیہ بیان پڑا تو فوراََ دماغ میں سگنل موصول ہوا کہ یار یہ تو جناب کی عادت ہے کیونکہ لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے وہ وقتاََ فوقتاََ ایسے متنازعہ اور بے وقوفانہ بیانات داغتے رہتے ہیں، شائد یہ انکی زہنی مریضی ہے۔

اس مرض کو اگر ہم براہمدغ فوبیا کا نام دے تو میرے خیال میں درست ہوگا، جناب نواب براہمدغ بگٹی یا بلوچ ریپبلکن پارٹی کے خلاف کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، ایک پارٹی کے چیئرمین ہوتے ہوئے بھی وہ آزادی پسند رہنماوں کو صرف اس لیے شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے کہ ریاستی کاسہ لیس انکے بارے میں باتیں کرتے ہیں۔

بھائی اگر آپ کا زکر نہیں ہوتا یا آپکو اہمیت نہیں دی جاتی تو یقین جاہیے اس میں بی آر پی یا نواب براہمدغ بگٹی کا کوئی قصور نہیں، بلکہ آپکو خود میں ایسی مثبت تبدیلیاں لانے کی ضروت ہے جس سے آپکا کردار مزید بہتر ہو۔

جناب اس حد تک آگے نکل جاتے ہیں براہمدغ بگٹی کو ایک شخص قرار دیتے ہیں، اگر براہمدغ بگٹی ایک شخص ہے تب تو آپکو پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں کیونکہ ایسے ہزاروں لوگ آپ کے سیاسی اور مسلح اداروں سے راہ فرار اختیار کرکے ریاستی اداروں کے سامنے سجدہ ریز ہوچکے ہیں۔ جبکہ براہمدغ تو آپکا سیاسی مخالف ہے، آپکو خوش ہونا چایئے کہ ایک سیاسی مخالف کم ہوجائیگا۔

لیکن دنیا آپکی طرح نہیں سوچتی اور نا ہی دنیا آپکی طرح کنوے کا وہ مینڈک ہے جو ایک چھوٹے سے کنوے کو ہی پوری دنیا تصور کرتا ہے۔ آپ کسی سے اسکا مقام، عزت، احترام اور اہمیت نہیں چھین سکتے، نواب صاحب ایک شخص نہیں بلکہ ایک سوچ اور نظریئے کا نام ہے جس سوچ اور نظریے سے وابستہ ہزاروں فرزندانِ وطن نے مادرِ وطن کی دفاع میں اپنی جانیں قربان کیں۔

میرے نزدیک ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ نواب صاحب نے سابقہ حکومت سے سمجھوتہ کیا ہو،اور نا ہی شک کی کوئی گنجائش، کیونکہ سمجھوتہ کرنے کے لیے کوئی تو وجہ ہونی چایئے، مثال کے طورپر دولت، شہرت، اقتدار یا مراعات کے لیے کوئی سمجھوتہ کریگا، اور اللہ تعالیٰ کی زات نے نواب صاحب کو عزت، دولت، شہرت، مقام ، حیثیت سب کچھ عطا کیا ہے، حالانکہ تحریکِ آزادی میں نواب صاحب نے بہت کچھ کھو دیا ہے بہت کچھ تحریک پر قربان کردیا ہے لیکن کیا آپ بتانے کی زحمت کرینگے کہ آپ نے کیا کھویا ؟ بلکہ تحریک میں شامل ہونے کے بعد آپ کے اثاثوں میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے، خیر اصل موضوع پر آتے ہیں۔

نواب براہمدغ بگٹی اپنی پارٹی کے ساتھیوں کو جوابدہ ہے ناکہ چیئرمین خلیل یا کسی دوسرے یا تیسرے کو ، جس ملاقات کی باتیں آپکو کئی سالوں بعد یاد آئیں ہیں اس حوالے سے بلوچ ریپبلکن پارٹی کے سربراہ نے اپنے پارٹی کے ساتھیوں کے تمام تحفظات کو پہلے ہی دور کردیا ہے اور پارٹی ساتھیوں کو ایک زرہ برابر بھی نواب براہمدغ بگٹی کی نیت پر شک نہیں۔

اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ بحیثیت ایک پارٹی کے چیئرمین بیان داغنے سے بہتر ہوتا کہ اس حوالے سے آپ بی آر پی کے سینیئر دوستوں یا نواب براہمدغ بگٹی سے خود ٹیلی فونک رابطہ کرتے اور ان سے اس حوالے سے تفصیل جاننے کی کوشش کرتے جو کہ ایک مثبت اور صیح طریقہ کار ہے، مجھے یقین ہے نواب صاحب آپکے کے لیے کچھ وقت نکالتے اور آپکے تحفظات کو دور کرتے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ آپکو پوائنٹ سکورنگ اور کردار کشی کرنی تھیں۔

میر جان بلوچ کے مزید مضامین:
واشنگٹن میں اللہ نذر کی نمائش
شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے
بلوچ یوٹیوبر انیتا جلیل اور برطانوی خاتون ایوا سو بیک کی حقیقت

اگر ہر کسی کو جوابدہ ٹہرانے کا حق حاصل ہوتا تو میں آپکو جوابدہ ٹہراتا، کیونکہ جس طرح تحریک کو ایرانی پراکسی میں بدلنے کی آپکی تیز کوششیں جاری ہیں اس سے اُن شہیدوں کی روحیں کانپتی ہوں گی جنہوں نے بلوچ قومی آزادی و بلوچ ننگ ناموس کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، آپ کو جوابدہ ٹہرانے کے لیے اور بھی بہت کچھ ہے لیکن یہ مناسب جگہ نہیں اور نا ہی میں آپ کو جوابدہ ٹہرا سکتا ہوں، یہ کام آپکے پارٹی کارکنان و زمہ داران کا ہے۔

تحریر : میرجان بلوچ
 نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں