کوئٹہ میں ڈاکٹروں نے اپینڈکس کا آپریشن کرتے ہوئے پنجگور کے رہائشی مریض کا گردہ نکال لیا

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچستان کے ضلع پنجگور کے رہائشی محمد طاہر کی چھوٹی بیٹی جوکہ پچھلے مہینہ میں پیٹ کی درد کی وجہ سے BMC ہسپتال کوئٹہ گئے تھے اور وہاں ڈاکٹر نے انہیں بتایا تھا کہ انکی Appendix کی وجہ سے پیٹ میں درد ہو رہی ہے۔

ڈاکٹروں نے کہا کہ جلد ہی آپریشن کرنا پڑے گا تو وہ لوگ ڈرگئے تھے اور آپریشن کر والیا اور آپریشن کے پانچ دن بعد پھر سے اسکی پیٹ میں درد ہونا شروع ہوا تو وہ لوگ پھر سے کوئٹہ آئے تھے اور پھر سے BMC ہسپتال کوئٹہ میں ڈاکٹر کو دکھایا تھا تو ڈاکٹر نے کچھ دوائیں لکھ کے دی تھی تو دوا لینے کے بعد پھر بھی وہ ٹھیک نہیں ہوئے تھے تو ڈاکٹر نے انہیں کہا تھا کہ ہو سکتاہے گردوں کا مسئلہ ہوگا۔

 پھر مجبوراً وہ سلیم میڈیکل کمپلیکس کوئٹہ کی طرف گئے تھے.سلیم میڈیکل کمپلیکس کوئٹہ میں ان لوگوں نے (ڈاکٹر کریم زرکون) کو دیکھا تھا جوکہ گردوں کے امراض کے ماہر ہیںڈاکٹر کریم صاحب نے ایک ہزار روپیہ فیس لیکر ان کو ہزاروں روپیہ کا میڈیسن دینے کے ساتھ ہر دو دن بعد MRI اور Ultrasound کروایا اور کہتے رہے کہ ان کی kidney کا چھوٹا مسئلہ ہے اور ٹھیک ہوجائے گا اور 12 انجیکشن لکھ کر دئیے تھے جوکہ فی انجکشن کا قیمت 5000 روپیہ تھا۔

ڈاکٹر کریم صاحب نے کہا تھا کہ ان کو میڈیسن دیں اور انجکشن لگاتے رہیں 15 دن بعد پھر سے میرے پاس مہائینہ کرنے کیلئے آجائیں۔

ایک غریب شخص جوکہ ایک لاوارث بلوچستان کے ضلع پنجگور سے تعلق رکھتے تھے وہ اتنی مہنگی دواؤں کیلئے پتہ نہیں کس کس سے قرضہ لیکر پیسے جمع کرتے اور دوائیں خرید لیا کرتے تھے مگر پھر بھی کوئی فرق نہیں تھا، انکی بیٹی کی طبیعت ویسے کا ویسا ہی تھا.پھر بار بار ڈاکٹر کریم کے پاس جانے اور بےشمار Ultrasound,MRI کرنے کے بعد ڈاکٹر کریم نے ایک اور سرجن (ڈاکٹر عالیہ ھاشمی) کے پاس بھیجا کہا کہ آپ لوگوں کا مسئلہ وہی حل کریں گے۔

مجبور باپ اور کیا کر سکتا تھامجبوراً وہ رشتہ داروں سے امداد لینے پر مجبور ہوگئے اور پھر سے سلیم میڈیکل کمپلیکس میں سرجن (ڈاکٹر عالیہ ھاشمی) کے پاس گئے اور اپنی مریض بیٹی کو اسے دیکھایا انہوں نے کہا کہ پچھلے مرتبہ جو Appendix کا آپریشن ہوا تھا اسی میں انفیکشن ہوا ہے، ہم پھر سے اسی کا آپریشن کریں گے ٹھیک ہو جائے گا، لیکن اس آپریشن میں 40 ہزار روپیہ تک خرچہ آئیگا۔

مجبور اور لاچار باپ نے اپنی رشتہ داروں سے امداد لیا اور آپریشن کیلئےسلیم میڈیکل کمپلیکس کوئٹہ میں سرجن (ڈاکٹر عالیہ ھاشمی) کے پاس گئےاس نے 20 جولائی 2019 کو سلیم میڈیکل کمپلیکس کوئٹہ میں رات کے وقت مسلسل 4 گھنٹے آپریشن کیا اور Appendix کی آپریشن کا بتاکر انہوں نے محمد طاہر کی بیٹی کا ایک گردہ نکال دیا اور گردہ نکالنے کی بات ڈاکٹر چھپالیا تھا کہ ان لوگوں نے ایک گردہ نکال دیا ہے اور پھر دوسرے دن آپریشن کے 24 گھنٹے بعد سرجن (ڈاکٹر عالیہ ہاشمی) نے آکر مریض کے غریب باپ سے کہا کہ ہم لوگوں نے آپ کی بیٹی کا ایک گردہ نکال دیاہے کیونکہ وہ گردہ ناکارہ تھالاچار باپ نے حیرانگی سے کہا ایسے کیسے؟

بناء بتائیں آپ کسی اور آپریشن کا نام لیکر دوسرا آپریشن کیسے کر سکتے ہیں کم سے کم آپ مجھے بتا تو دیتے۔ اگر آپریشن کیا بھی ہے تو نکالا گیا گردہ ہمیں دیکھا دیتے تاکہ ہمیں پتہ تو چلتا کہ گردہ نکال دیا گیا ہے۔

مگر ڈاکٹر عالیہ ہاشمی نے appendix کے آپریشن کے بہانے اسکی جسم سے ایک گردہ نکال دیا ہے اور اس گردے کا آخر کیا کیا؟ کہاں گیا؟ کس کو بھیج دیا گیا؟ ابھی تک معلوم نہیں ہوا ہوسکا۔ایک بے بس اور لاچار باپ انصاف کا منتظر ہے۔ ..

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں