کیا ہم شہیدوں کی قربانیوں کو اہمیت دیتے ہیں؟

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) میں اپنی تحریر شروع کرنے سے پہلے اُن تمام شهدا کو سرخ سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنی سرزمین کی خاطر اپنے سینے میں گولی کھا کر اپنے مادر وطن کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی جان نثار کی ہے۔

ہم ان شهیدوں کی قبروں کو دیکھیں اور اُن شهیدوں کی ماوں او بچوں کو دیکھیں اور ہم اُن شهیدوں کی قربانیوں کو یاد کریں۔ لیکن یہاں ان شهدا کو یاد نہیں کیا جاتا اور ان کی قربانیوں کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔  یہاں ہر کوئی اپنے مقصد کے لیے کام میں مصروف دکھائی دیتا ہے ۔

اگر آپ لوگ اپنے مقصد کے پابند نہیں ہو تو ہر روز کیوں ایک دوسرے کے ساتھ لڑھ رہے ہو، کیا ہم بلوچوں کا دشمن ایک نہیں ہے؟ میرے خیال سے ہمارا دشمن ایک ہے اور ہم لوگوں کا مقصد قومی آزادی ہے لیکن ہم لوگ کب تک ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے رہینگے۔ ہمیں زرا سوچنا هوگا ہمیں اُن شهیدوں کے بچوں کو دیکھنا ہوگا که جب عید آتی ہے کیا شهیدوں کے بچوں کو پہننے کے لیے نئے کپڑے اور کھانے کو کچھ میسر ہوتا ہے۔  جب عید آتی ہے ہم لوگ شهیدوں کے گھر والوں کا حال پوچھتے ہیں که تم لوگوں کے پاس عید کی تیاری کے لیے کچه ہے بھی یا نهیں میرے خیال سے پوچھنے والا کوئی نہیں، حیقت یہی ہے که ہم اپنی دنیا میں مگھن ہیں۔

ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ اگر اس وقت ہم لوگ متحد اور ہمگام نہ ہوئے اور اپنی تقسیم در تقسیم ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈا جاری رکھا تو ہم بحیثیت ایک قوم کبھی اپنی منزل تک نهیں پهنچ پائیں گے۔

تحریر: قمبر دشتی بلوچ

نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button