گمشدہ افراد کا ’ریکارڈ مرتب کرنے والا‘ خود لاپتہ ہوگیا

نیوز ڈیسک (ریةبلکن نیوز) انسانی حقوق کے کارکن ادریس خٹک کی مبینہ ’جبری گمشدگی‘ پر پاکستان کی سول سوسائٹی اور سیاسی رہنماؤں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

ادریس خٹک سیاسی طور پر ایک نیشنل پارٹی سے وابستہ ہیں جبکہ وہ ایمنسٹی انٹرنیشنل میں بھی کام کر چکے ہیں۔ ان کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ جبری طور پر گمشدہ ہونے والے افراد کا ریکارڈ مرتب کر رہے تھے۔ انہیں تقریبا چھ دن پہلے صوابی انٹر چینج سے نامعلوم افراد نے ڈرائیور سمیت اٹھا لیا تھا۔ ان کے قریبی ذرائع کے مطابق ان کے ڈرائیور کو بعد میں رہا کر دیا گیا لیکن وہ اب بھی لا پتہ ہیں۔

ان کی مبینہ ‘جبری گمشدگی‘  پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے جب کہ سوشل میڈیا پر بھی ان کی ‘جبری گمشدگی‘  پر تبصرے کے جا رہے ہیں۔ سابق رکن قومی اسمبلی بشریٰ گوہر نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ، ”یہ بڑا خطرناک رجحان ہے کہ ریاست اختلافی آوازوں کو دبا رہی ہے اور سیاسی مخالفین کو خاموش کرا رہی ہے جب کہ ہزاروں انسانوں کے قاتل طالبان کو پروٹوکول دیا جارہا ہے اور ان کو خیبرپختونخوا میں کام کرنے کی کھلی آزادی دی جا رہی ہے۔ ادریس خٹک کو مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اٹھایا ہے اور ستم یہ ہے کہ آخری اطلاعات تک اغوا کاروں کے خلاف ایف آئی آر بھی نہیں کاٹی جا رہی تھی۔‘‘

مزید خبریں اسی بارے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں