گوادر میں سکول کے بچوں کے لیے چینی زبان لازم قرار

گوادر (ریپبلکن نیوز) چین پاکستان اقتصادی راہ داری کے منصوبے کے آغاز کے بعد سے ملک کے مختلف شہروں میں چینی زبان سیکھنے کے سینٹر قائم کیے جا رہے ہیں۔

وہی گوادر میں بام پبلک اسکول ہے جہاں مینڈرن یعنی چینی زبان بطور کورس پڑھائی جانے لگی ہے۔اسکول میں چینی زبان کا باقاعدہ کلاس ہوتی ہے اور بچوں کو بولی کی پریکٹس بھی کرائی جاتی ہے۔

بام پبلک اسکول گوادر کے ڈائریکٹر جمیل قاسم نے میڈیا کو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اسکول بلوچستان کا واحد اسکول ہے جہاں چینی بطور کورس پڑھائی جا رہی ہے اور اس وقت پہلی کلاس سے لیکر پانچویں جماعت تک کے بچے چینی سیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گرامر کے ساتھ ساتھ چینی زبان میں بول چال پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے اسکول میں ایک خاتون ٹیچر نے چین سے چینی زبان کا کورس کیا ہوا ہے اوراب وہ گوادر میں اسکول میں بچوں کو چینی سکھانے کی زمہ داری اداکر رہی ہیں۔

“چینی سیکھنے والے  بچے نہ صرف اپنا تعارف چینی میں کراسکتے ہیں بلکہ  روز مرہ کی چیزوں کے نام بھی چینی زبان میں بتاسکتے ہیں۔”

نصاب کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ چینی زبان کی تمام کتابیں چین سے منگوائی گئیں ہیں اور یہ کتب چین کے تعلیمی اداروں میں بھی پڑھائی جاتی ہیں۔اسکول میں امتحانات میں چینی زبان کا باقاعدہ ایک پرچہ  بھی رکھا گیا ہے۔

واضع رہے کہ بلوچ قوم پرست جماعتیں کئی سالوں سے اس بات کا خدشہ ظاہر کرتے آئے ہیں کہ بلوچستان میں دوسرے اقوام خاص طور پر چینی آباد کاری سے مقامی بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل کیا جائے گا۔ جس کی وجہ سے بلوچستان کے منتخب نمائیدے اور آزادی پسند قوم پرست پارٹیاں بلوچستان میں چین کے آبادی کاری کے منصوبے کے خلاف ہیں اور کچھ مسلح قوتیں اس عمل کے خلاف باقائدہ جنگ کا علان کر چکی ہیں اور وہ چین سے منسلک اہلکاروں اور منصوبوں کے خلاف مسلح کاروائیاں بھی کرتے رہے ہیں جن میں چینی شہرویوں سمیت ان منصوبوں سے منسلک کئی لوگ مارے جا چکے ہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں