ہم تم کو اب کیسے یاد آئے ؟ |ریپبلکن| مضمون

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) شاہ شہیداں نواب اکبر خان بگٹی ہمارے اور ہماری ننگ و ناموس اور ہمارے بلوچ سرزمین کی آزادی اور اس کے وسائل و ساحل کے حصول کے لیے تقریباََ نوئے سال کے ضعیف العمری میں بڑے ہی دلیری، بہادری اور جرت مندی و غیرت کے ساتھ اپنے جان کا نذرانہ پیش کیا۔

اور اسی روز سے لیکر آج تک ان کے حقیقی جان نشین رہبر بلوچ قوم و بگٹی قبیلے کے سربراہ نواب براہمدغ خان بگٹی نےاپنی زندگی کے تمام تر آسائشوں کو ٹھو کر مار کر اپنے دادا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بلوچ قومی بقا اور نگ و ناموسقومی حق و حقوق اور بلوچ سرزمین کے سائل و وسائل پر بلوچ قوم کا حق حاکمیت کا بیڑا اپنے مظبوط کندھوں پر اٹھارکھا ہے

شاہ شہیداں نواب محمد اکبر خان بگٹی کے اصلی وارث اور اس کے قربانیوں کے داستان کو تفصیلی بیان کرنے میں شایدہی نہیں بلکہ یقیناً صدیاں در کار ہونگی۔

جن کو بیان کرنا میرے بس کی بات نہیں۔

آئیے اب چلتے ہیں اپنے کالم کے اصل موضوع کی طرف

ہم تم کو اب کیسے یاد آئے؟

کالم کے مزید تفصیلات میں جانے سے پہلے ایک اہم چیز بتاتا چلوں کہ اسی زیر بحث مضمون میں دو حروف جو اہم بھیہیں اور کالم کے اصل موضوع کا بھی سب سے زیادہ انہی دو حروف سے ہی وابستگی رہے گی۔

یقیناً نہیں بلکہ آپ یہ ضرور سوچ رہے ہونگے۔

اس کالم میں صرف دو ہی کیوں اہم ہیں۔

ویسے تو اول سے لیکر اخیر تک تمام کے تمام حرف اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں۔

مگر یہ دو حروف ہم اور تم مطلب خیز کیوں ہیں؟

تو ان دونوں حروف کے اہم ہونے کی وجہ ضرور ملاحظہ فرمائیں۔

پہلا حروف

1، ہم سے مراد ( سوئی گیس ) جو ضلع ڈیرہ بگٹی کا ایک سب تحصیل ہے جہاں سے 1951 میں قدرتی گیس کے ذخائردریافت ہوئے ہیں۔

بلکہ پورا ضلع ڈیرہ بگٹی ( بگٹی عوام ) کا ہی ہیں۔

اور دوسرا اہم حرف “تم” سے مطلب سلیکٹیڈ پاکستانی سینٹر اور سابقہ فوجی صوبائی وزیر داخلہ( سرفراز بگٹی ) ہیہیں۔ 

ویسے اگر آپ یا اور کوئی جیسے اور جس زاوئیے سے بھی دیکھے۔

ہم تم اور تم ہم سے ہی ہو۔

کاش کہ ہم تم سے اور نا تم ہم سے بلکہ تم تو کسی انسان کی ذات سے بھی وابستہ نا ہوتے۔

تو کتنا اچھا ہوتا۔

خیر یہ ہم تم کے وابستگی کا نظام خدائی ہے۔

اس میں ہم تم تو کیا کوئی بھی مداخلت نہیں کر سکتا۔

خدا نے حضرت موسی اور حضرت فرعون کو بھی ہم تم کے ناطے میں باندھ دیا تھا۔

جیسے ہم( موسی) اور تم ( فرعون )

بیشک اوپر والا سب پر قادر ہے۔

جیسے بلوچ قومی نگ و ناموس اور اپنے سرزمین کے حفاظت کی خاطر بہادری و غیرت مندی کے ساتھ موت کی آنکھوںسے آنکھیں ٹکرانے والے ببر شیر نواب محمد اکبر خان بگٹی شہید کے گھر بھی میر صادق اور میر جعفر جیسے لوگ یعنی ( نوابزادہ شاہ زین،  نوابزادہ گہرام اور سرکاری نواب عالی بگٹی کو پیدا کر کے ان کے ساتھ بھی ہم تم کا ناطہ جوڑ دیا۔

بلکل اسی طرح ہم یعنی ( بگٹی قبیلہ) کے ساتھ بھی تم یعنی پاکستانی آرمی کے منتخب کردہ سینٹر اور سابقہ صوبائیوزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا ناطہ جوڑ دیا ہے۔

خدائی نظام میں مداخلت ہم تو نہیں کر سکتے۔

خدائی سیسٹم خدا ہی جانے۔

ہم چلتے ہیں تم کی طرف۔

یعنی اپنی کالم کے اصل موضوع کی طرف۔

ہم تم کو اب کیسے یاد آئے ؟

( سرفراز بگٹی ) صاحب !

ہم تم کو اب کیسے یاد آئے ؟

شعر 

جب تم اوپر سے نیچے آئے تب ہم تم کو یاد آئے 

جب تیرے آقاوں نے رنگ بدلا تب ہم تم کو یاد آئے

میر بگٹی

شاہ شہیداں نواب محمد اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد جب پاکستان آرمی، آئی ایس آئی اور اسٹیبلشمنٹ نے تم کوہم یعنی سوئی گیس بلکہ پورے ضلع ڈیرہ بگٹی کے بچے کچے ( بگٹی قبیلے ) پر مسلط کر کے ان سب کا مائی باپ مقررکیا۔

نواب محمد اکبر خان بگٹی شہید کے سوئی میں موجود گھر ( بگٹی ہاوس ) پر قبضہ کرکے تمھارے حوالے کیا۔

تم ( سرفراز بگٹی ) نے تمام غیرت مند بہادر، مہمان نواز ، پورے بگٹی قبیلے کے گھر ( بگٹی ہاوس ) یعنی( بگٹی بولک ) کےنام کو تبدل کر کے پاکستان ہاوس رکھ دیا۔

اس وقت ہم تم کو کیوں یاد نہیں آئے؟

ہم تم کو اب کیسے یاد آئے؟ 

اس وقت سے لیکر آج تک یعنی تقریبا سولہ ، سترہ سال کے درمیانی عرصے میں تم یعنی پاکستان فوج کے منتخب کردہ سینٹر اور سابقہ صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کو ہم یعنی ضلع ڈیرہ بگٹی کے بچے کچے ( بگٹی قبیلے ) کا کوئی ایساایک بھی چولھا ایسا نظر نہیں آیا جس میں لکڑی یا گائے بیل یا بھینس کے گوبر سے کھانا پک رہا ہو۔

اتنے طویل عرصے میں تم یعنی (سرفراز بگٹی ) کو سوئی سے بیکڑ براستہ روڈ سفر کے دوران ہم یعنی ( بگٹی قبیلے ) کاکوئی بھی ایک بگٹی زائفان یعنی عورت سر پر لکڑیاں اٹھائی ہوئی نظر نہیں آیا ؟

جب تم ( سرفراز بگٹی ) سوئی بلکہ پورے ضلع ڈیرہ بگٹی بشمول پورے بلوچستان کے مائی باپ ( مقرر تھے اس وقتمیرے خیال میں نا سوئی میں کوئی گیس کمپنی تھا اور نا ہی وہاں کی سرزمین پر گیس نکلتا تھا نا ہی کوئی بگٹی عورتسر پر لکڑیاں اٹھا کر لایا کرتی تھی۔

نا ہی سوئی اور ڈیرہ بگٹی کے عوام کی ماں بہنیں گوبر اور لکڑی جلا کر کھانا پکا کر اپنے بچوں کو کھلاتی تھی۔

اور نا ہی آپ کے اس قلیل دور اقتدار میں خدانخواستہ سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں بجلی کا کہیں بھولے سے بھی لوڈشیڈنگہوا ہو؟

جب تم ( سرفراز بگٹی ) اس پورے محروم صوبہ بلوچستان کے وزیر داخلہ تھے۔

تب تو ہم تم کو یاد نہیں آئے؟ تو 

ہم تم کو اب کیسے یاد آئے؟

اسی دورانیہ میں سوئی و ڈیرہ بگٹی ہم ( بگٹی قبیلے ) میں سرکاری اور کمپنیوں کی ملازمتوں میں بھرتی کے دوران رشوتخوری کا تو کہیں دور دور تک نام و نشان ہی نہیں تھا۔

سرکاری حمایت یافتہ وڈیرے تو بچارے ملازمتوں اور سکیموں اور فنڈذ کےلئے ترس رہے تھے۔

کشمور سے سوئی و ڈیرہ بگٹی اپنے گھروں کو واپس آنے والے ہم تمام کے تمام بگٹیوں کو بیس سے تیس جگہ ایف سیوالے نگا کرتے تھے اور تا حال کر رہے ہیں۔

ہماری ماں بہنوں کی بےپردگی بڑے ہی مزے سے پاکستانی سیکورٹی فورسز کی ہاتھوں ہو رہی تھی اور جو آج تک جاری وساری ہے۔

اس وقت ہم تم کو کیوں یاد نہیں آئے؟ مگر 

( ہم تم کو اب کیسے یاد آئے؟ )

جب ہمارے ( بگٹی قبیلے ) کے نوجوانوں کو اٹھا کر لاپتہ کرنے کے بعد شہید کرکے بلڈوزروں کے ذریعے اجتماعی قبروںمیں دفن کیا جاتا تھا۔

اس وقت کہاں تھے تمھارے قومی جذبے؟ مگر

کاش کہ تم اس وقت بھی بلوچستان اسمبلی کی نشست کی آرام دہ کرسی کو چھوڑ کر احتجاجاً فرش پر بیٹھے ہوتے؟

ہم کو اس وقت بھولنے کے سدباب کیا تھے ؟ مگر 

( ہم تم کو اب کیسے یاد آئے؟ ) 

ہمارے( بگٹی قبیلے ) کے علاقے میں موجود گیس کمپنیوں کی لوٹ مار اور ناانصافیاں اور من مانیاں بگٹی ملازمین کےساتھ عروج پر تھی۔

اس وقت تم کم یاد آواری کے عارضے مبتلا تھے شاید؟مگر 

ہم تم کو اب کیسے یاد آئے؟

شدید گرمیوں میں پیر کوہ سے لیکر ڈیرہ بگٹی ٹاون سے لوٹی زین سے لےکر سوئی کے تمام تر کالونیاں ماسوائے ( فیلڈ ایریا، آرمی چھاونی ، ایف سی قعلہ اور ڈی ایس جی کیمپ ) کے باقی ہم یعنی( بگٹی قبیلے ) کے بچے عورتین پیر و ورنہ سبکے سب پانی کی تلاش میں سر گردان رہتے ہیں۔

جیسے کربلا والے پیاس کے مارے چیخ رہے تھے۔

اس وقت کہاں تھی تمھاری دیکھاوے کی مسیحائی۔

اس وقت ہم تم کو کاہے یاد نہیں آئے؟ مگر 

ہم تم کو اب کیسے یاد آئے؟

ایک پل کے لیے اگر مان بھی لیا جائے کہ تم ( سرفراز بگٹی ) کا اگر واقعی ہم ( بگٹی قبیلے ) کے ایک زائیفان( عورت ) کو سرپر لکڑیاں اٹھائے دیکھ کر ضمیر جاگ اٹھتا ہے۔

تو اسلام آباد کی اسمبلی حال کے نرم و ملائم صوفہ والی کرسی چھوڑ کر فرش پر بیٹھنے کی بجائے سوئی سے پنجابجانے والی گیس پائپ لائن پر دھرنا دے کر پنجاب کا گیس بند کر دیتے۔

میں جانتا ہوں کہ ہم (بگٹی قبیلے ) کے لوگ سادہ انسان ہیں۔

اور وہ تم یعنی( سرفراز بگٹی ) کے بھکاوئے میں بڑی آسانی اور بہت جلد آ ہی جاتے ہیں۔

جو کافی عرصہ دراز سے دھوکہ کھا بھی رہے ہیں۔

اپنا آبائی گھر بیکڑ !

مگر لوٹ مار سوئی گیس میں؟

کاش کہ بیکڑ میں کبھی بھی کوئی بگٹی زائیفان( عورت ) لکڑیاں سر پر اٹھائے اتفاقیہ طور پر تمھارے سرکاری بلٹ پروفگاڑی کے سامنے سے گزرتی ؟

تمھیں اور تمھارے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ کو جگانے کےلئے۔

پھر تو تم اپنے گزشتہ تمام دور اقتدار کے سبھی اسمبلی اجلاسوں کے دوران کرسی پر بیٹھنے کہ بجائے فرش پر ہی بیٹھ کراٹینڈ کرتے؟

ہمارے تکالیف اور محرومیوں کی خاطر،

ہم تم کو اب کیسے یاد آئے؟

بس 

ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرے سارے فراڈ نہیں بھولے

اور اسی روز سے لیکر آج تک ان کے حقیقی جان نشین رہبر بلوچ قوم و بگٹی قبیلے کے نواب براہمدغ خان بگٹی نے اپنی زندگی کے تمام تر عاشائیشوں کو ٹھو کر مار کر اپنے دادا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بلوچ قومی بقا اور نگ و ناموس قومی حق و حقوق بلوچ سرزمین کے سائل و وسائل پر بلوچ قوم کا حق حاکمیت کا بیڑا اپنے مظبوط گدھوں پر اٹھا رکھا ہے۔

شاہ شہیداں نواب محمد اکبر خان بگٹی کے اصلی والی وارث اور اس کے قربانیوں کے داستان کو تفصیلی بیان کرنے میں شاید ہی نہیں بلکہ یقینا صدیاں در کار ہونگی۔

جن کو بیان کرنا میرے بس کی بات نہیں۔

آئیے اب چلتے ہیں اپنے کالم کے اصل موضوع کی طرف

ہم تم کو اب کیسے یاد آئے؟

کالم کے مزید تفصیلات میں جانے سے پہلے ایک اہم چیز بتاتا چلوں کہ اسی زیر بحث مضمون میں دو حروف جو اہم بھی ہیں اور کالم کے اصل موضوع کا بھی سب سے زیادہ انہی دو حروف سے ہی وابستگی رہے گی۔

یقینا نہیں بلکہ آپ یہ ضرور سوچ رہے ہونگے۔

اس کالم کے کل ساتھ حروف میں سے دو ہی کیوں اہم ہیں۔

ویسے تو اول سے لیکر اخیر تک تمام کے تمام حرف اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں۔

مگر یہ دو حروف ہم اور تم مطلب خیز کیوں ہیں؟

تو ان دونوں حروف کے اہم ہونے کی وجہ ضرور ملاحظہ فرمائیں۔

پہلا حروف

1، ہم سے مراد ( سوئی گیس ) جو ضلع ڈیرہ بگٹی کا ایک سب تحصیل جہاں سے 1951 میں قدرتی گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔

بلکہ پورا ضلع ڈیرہ بگٹی کا

( بگٹی عوام ) ہی ہیں۔

اور دوسرا اہم حرف

2، تم سے مطلب سلیکٹیڈ پاکستانی سینٹر اور سابقہ فوجی صوبائی وزیر داخلہ( سرفراز بگٹی ) ہی ہیں۔ 

ویسے اگر آپ یا اور کوئی جیسے اور جس زاوئیے سے بھی دیکھے۔

ہم تم اور تم ہم سے ہی ہو۔

کاش کہ ہم تم سے اور نا تم ہم سے بلکہ تم تو کسی انسان کی ذات سے بھی وابستہ نا ہوتے۔

تو کتنا اچھا ہوتا۔

خیر یہ ہم تم کے وابستگی کا نظام خدائی ہے۔

اس میں ہم تم تو کیا کوئی بھی مداخلت نہیں کر سکتا۔

خدا نے حضرت موسی اور حضرت فرعون کو بھی ہم تم کے ناطے میں باندھ دیا تھا۔

جیسے ہم( موسی) اور تم ( فرعون )

بیشک اوپر والا سب پر قادر ہے۔

جیسے بلوچ قومی نگ و ناموس اور اپنے سرزمین کے حفاظت کی خاطر بہادری و غیرت مندی کے ساتھ موت کی آنکھوں سے آنکھیں ٹکرانے والے ببر شیر نواب محمد اکبر خان بگٹی شہید کے گھر بھی میر صادق اور میر جعفر جیسے لوگ یعنی ( نوابذادہ شاژین، نوابذادہ گہرام اور سرکاری نواب عالی بگٹی کو پیدا کر کے ان کے ساتھ بھی ہم تم کا ناطہ جوڑ دیا۔

بلکل اسی طرح ہم یعنی ( بگٹی قبیلے ) کے ساتھ بھی تم یعنی پاکستانی آرمی کے منتخب کردہ سینٹر اور سابقہ صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا ناطہ جوڑ دیا ہے۔

خدائی نظام میں مداخلت ہم تو نہیں کر سکتے۔

خدائی سیسٹم خدا ہی جانے۔

ہم چلتے ہیں تم کی طرف۔

یعنی اپنی کالم کے اصل موضوع کی طرف۔

ہم تم کو اب کیسے یاد آئے ؟

( سرفراز بگٹی ) صاحب !

ہم تم کو اب کیسے یاد آئے ؟

شعر 

جب تم اوپر سے نیچے آئے تب ہم تم کو یاد آئے 

جب تیرے آقاوں نے رنگ بدلا تب ہم تم کو یاد آئے

میر بگٹی

شاہ شہیداں نواب محمد اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد جب پاکستان آرمی، آئی ایس آئی اور اسٹیبلشمنٹ نے تم کو ہم یعنی سوئی گیس بلکہ پورے ضلع ڈیرہ بگٹی کے بچے کچے ( بگٹی قبیلے ) پر مسلط کر کے ان سب کا مائی باپ مقرر کیا۔

نواب محمد اکبر خان بگٹی شہید کے سوئی میں موجود گھر ( بگٹی ہاوس ) پر قبضہ کرکے تمھارے حوالے کیا۔

تم یعنی ( میر سرفراز بگٹی ) نے تمام غیرت مند بہادر، مہمان نواز ، پورے بگٹی قبیلے کے گھر ( بگٹی ہاوس ) یعنی( بگٹی بولک ) کے نام کو تبدل کر کے پاکستان ہاوس رکھ دیا۔

اس وقت ہم تم کو کیوں یاد نہیں آئے؟

ہم تم کو اب کیسے یاد آئے؟ 

اس وقت سے لیکر آج تک یعنی تقریبا سولہ ، سترہ سال کے درمیانی عرصے میں تم یعنی پاکستان فوج کے منتخب کردہ سینٹر اور سابقہ صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کو ہم یعنی ضلع ڈیرہ بگٹی کے بچے کچے ( بگٹی قبیلے ) کا کوئی ایسا ایک بھی چولھا ایسا نظر نہیں آیا جس میں لکڑی یا گائے بیل یا بھینس کے گوبر سے کھانا پک رہا ہو۔

اتنے طویل عرصے میں تم یعنی (سرفراز بگٹی ) کو سوئی سے بیکڑ براستہ روڈ سفر کے دوران ہم یعنی ( بگٹی قبیلے ) کا کوئی بھی ایک بگٹی زائفان یعنی عورت سر پر لکڑیاں اٹھائی ہوئی نظر نہیں آیا ؟

جب تم ( سرفراز بگٹی ) سوئی بلکہ پورے ضلع ڈیرہ بگٹی بشمول پورے بلوچستان کے مائی باپ ( مقرر تھے اس وقت میرے خیال میں نا سوئی میں کوئی گیس کمپنی تھا اور نا ہی وہاں کی سرزمین پر گیس نکلتا تھا نا ہی کوئی بگٹی عورت سر پر لکڑیاں اٹھا کر لایا کرتی تھی۔

نا ہی سوئی اور ڈیرہ بگٹی کے عوام کی ماں بہنیں گوبر اور لکڑی جلا کر کھانا پکا کر اپنے بچوں کو کھلاتی تھی۔

اور نا ہی آپ کے اس قلیل دور اقتدار میں خدانخواستہ سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں بجلی کا کہیں بھولے سے بھی لوڈشیڈنگ ہوا ہو؟

جب تم ( سرفراز بگٹی ) اس پورے محروم صوبہ بلوچستان کے وزیر داخلہ تھے۔

تب تو ہم تم کو یاد نہیں آئے؟ تو 

ہم تم کو اب کیسے یاد آئے؟

اسی دورانیہ میں سوئی و ڈیرہ بگٹی ہم ( بگٹی قبیلے ) میں سرکاری اور کمپنیوں کی ملازمتوں میں بھرتی کے دوران رشوت خوری کا تو کہیں دور دور تک نام و نشان ہی نہیں تھا۔

سرکاری حمایت یافتہ وڈیرے تو بچارے ملازمتوں اور سکیموں اور فنڈذ کےلئے ترس رہے تھے۔

کشمور سے سوئی و ڈیرہ بگٹی اپنے گھروں کو واپس آنے والے ہم تمام کے تمام بگٹیوں کو بیس سے تیس جگہ ایف سی والے نگا کرتے تھے اور تا حال کر رہے ہیں۔

ہماری ماں بہنوں کی بےپردگی بڑے ہی مزے سے پاکستانی سیکورٹی فورسز کی ہاتھوں ہو رہی تھی اور جو آج تک جاری و ساری ہے۔

اس وقت ہم تم کو کیوں یاد نہیں آئے؟ تو ہم تم کو اب کیسے یاد آئے؟

جب ہم ( بگٹی قبیلے ) کے نوجوانوں کو اٹھا کر لاپتہ کرنے کے بعد شہید کرکے بلڈوزروں کے ذریعے اجتماعی قبروں میں دفن کیا جاتا تھا۔

اس وقت کہاں تھے تمھارے قومی جذبے؟ مگر

کاش کہ تم اس وقت بھی بلوچستان اسمبلی کی نشست کی آرام دہ کرسی کو چھوڑ کر احتجاجنا فرش پر بیٹھے ہوتے؟

ہم کو اس وقت بھولنے کے سدباب کیا تھے ؟ مگر 

( ہم تم کو اب کیسے یاد آئے؟ ) 

ہم ( بگٹی قبیلے ) کے علاقے میں موجود گیس کمپنیوں کی لوٹ مار اور ناانصافیاں اور من مانیاں بگٹی ملازمین کے ساتھ عروج پر تھی۔

اس وقت تم کم یاد آواری کے عارضے مبتلا تھے شاید؟مگر 

ہم تم کو اب کیسے یاد آئے؟

شدید گرمیوں میں پیر کوہ سے لیکر ڈیرہ بگٹی ٹاون سے لوٹی زین سے لےکر سوئی کے تمام تر کالونیاں ماسوائے ( فیلڈ ایریا ، آرمی چھاونی ، ایف سی قعلہ اور ڈی ایس جی کیمپ ) کے باقی ہم یعنی( بگٹی قبیلے ) کے بچے عورتین پیر و ورنہ سب کے سب پانی کی تلاش میں سر گردان رہتے ہیں۔

جیسے کربلا والے پیاس کے مارے چیخ رہے تھے۔

اس وقت کہاں تھی تمھاری دیکھاوے کی مسیحائی۔

اس وقت ہم تم کو کاہے یاد نہیں آئے؟ مگر 

ہم تم کو اب کیسے یاد آئے؟

ایک پل کے لیے اگر مان بھی لیا جائے کہ تم ( سرفراز بگٹی ) کا اگر واقعی ہم ( بگٹی قبیلے ) کے ایک زائیفان( عورت ) کو سر پر لکڑیاں اٹھائے دیکھ کر ضمیر جاگ اٹھتا ہے۔

تو اسلام آباد کی اسمبلی حال کے نرم و ملائم صوفہ والی کرسی چھوڑ کر فرش پر بیٹھنے کی بجائے سوئی سے پنجاب جانے والی گیس پائپ لائن پر دھرنا دے کر پنجاب کا گیس بند کر دیتے۔

میں جانتا ہوں کہ ہم (بگٹی قبیلے ) کے لوگ سادہ انسان ہیں۔

اور وہ تم یعنی( سرفراز بگٹی ) کے بھکاوئے میں بڑی آسانی اور بہت جلد آ ہی جاتے ہیں۔

جو کافی عرصہ دراز سے دھوکہ کھا بھی رہے ہیں۔

اپنا آبائی گھر بیکڑ !

مگر لوٹ مار سوئی گیس میں؟

کاش کہ بیکڑ میں کبھی بھی کوئی بگٹی زائیفان( عورت ) لکڑیاں سر پر اٹھائے اتفاقیہ طور پر تمھارے سرکاری بلٹ پروف گاڑی کے سامنے سے گزرتی ؟

تمھیں اور تمھارے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ کو جگانے کےلئے۔

پھر تو تم اپنے گزشتہ تمام دور اقتدار کے سبھی اسمبلی اجلاسوں کے دوران کرسی پر بیٹھنے کہ بجائے فرش پر ہی بیٹھ کر اٹینڈ کرتے؟

ہمارے تکالیف اور محرومیوں کی خاطر،

ہم تم کو اب کیسے یاد آئے؟

بس 

ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرے سارے فراڈ نہیں بھولے

تحریر: میر بگٹی

جاری ہے

مزید خبریں اسی بارے میں

تبصرے بند ہیں۔

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں