13 نومبر (شہدا ڈے) کے بارے میں نواب براہمدغ بگٹی کا موقف

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچ ریپبلکن پارٹی کے صدر اور آزادی پسند قوم پرست رہنما نواب براہمدغ بگٹی نے 13 نومبر (یومِ شہدا) کے حوالے سے اپنا موقف ایک بار پھر واضح کردیا۔

25 اگست کو شہید نواب اکبر خان بگٹی کی 13 ویں یومِ شہادت کے موقع پر بلوچ ریپبلکن پارٹی کی جانب سے جرمنی کے شہر فرنکفرٹ میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں نواب براہمدغ بگٹی نے بذریعہ اسکائپ ویڈیو کال کے زریعے خطاب کیا اور لوگوں کے سوالات کا جواب بھی دیا۔

سیمینار میں موجود ایک شخص نے سوال کیا کہ تمام شہیدوں کا درجہ ایک برابر ہے، کوئی شہید بڑا یا چھوٹا نہیں، کسی کا درجہ کم یا کسی کا زیادہ نہیں لہذا تمام شہیدوں کو یاد کرنے کے لیے پہلے سے ہی ایک دن (13 نومبر) موجود ہے تو پھر بی آر پی کیوں شہید نواب اکبر خان بگٹی کا بھرسی جداگانہ طورپر مناتا ہے اور 13 نومبرکی حمایت کیوں نہیں کرتا؟

نواب براہمدغ بگٹی نے سوال کا جواب دیتےہوئے کہا کہ اگر کسی نے 13 نومبر کو بطورِ شہدا ڈے متعارف کرایا ہے تو یہ انکی ایک غلطی ہے، اس دن کو متعارف کرنے والا تنظیم بی ایس او (آزاد) تھا جو ایک طلبا تنظیم ہے جسے کوئی حق نہیں کہ وہ قومی دنوں کا انتخاب کرے۔ چند طلبا بیٹھ کر قومی دن کا انتخاب نہیں کرسکتے، قومی دن کا انتخاب قومی اداروں کی مشاورت کے بعد ہی طے پاتے ہیں۔

نواب صاحب نے مزید کہا کہ قومی دنوں کا انتخاب تمام جماعتوں کی مشارت سے طے پاتے ہیں، جب کہ 13 نومبر کے حوالے سے بی آر پی سے کسی نے مشارت نہیں کیں ہے، ہم سے کسی نے کوئی صلہ مشورہ نہیں کیا کہ تمام شہدا کو یاد کرنے کے لیے ایک مخصوص دن کا انتخاب کیا جارہا ہے۔

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لیڈر شپ اہمیت رکھتا ہے، شہید نواب اکبر خان بگٹی ایک قومی لیڈر تھا، نواب صاحب نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب کسی ملک کا ایک عام فوجی شہید ہوتا ہے تو کیا پورا ملک سوگ مناتا ہے؟ لیکن جب کوئی اعلیٰ فوجی افسر شہید ہوتا ہے تو پورا ملک سوگ مناتا ہے، افغانستان میں امریکی فوجی مارے جارہے ہیں تو کیا امریکہ میں سوگ منایا جاتا ہے؟ لیکن جس دن جون ایف کینے ڈی مارا گیا تھا پورے ملک نے سوگ منایا تھا، کیونکہ وہ ایک لیڈر تھا۔

نواب اکبر بگٹی بلوچ قوم کا ہی لیڈر تھا اور انہوں نے بلوچ قوم کے لیے ہی اپنا سب کچھ قربان کیا، انہیں کسی چیز کی کمی نہیں تھیں انکے پاس سب کچھ تھا لیکن انہوں نے اپنا سب کچھ اسی بلوچ قوم کے لیے قربان کیا۔

بلوچستان میں سردار، نواب اور لیڈروں کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن 2006 سے پہلے جو حیثیت شہید نواب اکبر بگٹی اور مرحوم خیر بخش مری کو حاصل تھیں وہ حیثیت وہ مقام کسی اور کو حاصل نہیں تھا۔ بلوچستان میں سردار و نواب تو بہت ہیں پھر کیوں ہر بلوچ کے دل میں نواب اکبر بگٹی اور خیربخش مری کے لیے عزت و احترام پایا جاتا ہے، کیونکہ انکی زندگی بھر کی عمل اور جدوجہد کی وجہ سے قوم نے انہیں وہ عزت و مقام دیا ہے۔

نواب براہمدغ بگٹی نے ہندوستان کا مثال دیتے ہوئے کہا کہ گاندھی نے آزادی کے لیے جدوجہد شروع کیا تھا جس میں دیگر ہزاروں ہندوستانی شریک تھے، تو ہندوستان کی آزادی کے بعد لوگ سوال کریں کہ ہندوستانی کرنسی پر گاندھی کی تصویر کیوں لگائی گئی ہے دیگر شہیدوں کی تصاویر کیوں نہیں ہیں، قربانی تو سب نے دی ہے جدوجہد میں تو سب ساتھ تھے تو دیگر شہدا کے تصاویر بھی لگائے جائیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ گاندی ایک لیڈر تھا جسے اسکی قوم نے خود منتخب کیا تھا۔ قوم خود لیڈر بناتے ہیں اور اُس لیڈر کی عزت و احترام اس قوم کے زمے ہوتا ہے۔

وہ کوئی بد قسمت قوم ہی ہوگا جو اپنے اُس لیڈر کی قربانی کو کم کرنے کی کوشش کرے جس نے اپنی قوم کے لیے جدوجہد کیا قربانیاں دیں، میں سممجھتا ہوں وہ بدقسمت قوم ہوگی۔ْاسی طرح شہید نواب اکبر بگٹی ایک قومی لیڈر تھا جس کے احترام کے لیے انہیں 26 اگست کو یاد کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں لیڈر بہت ہیں لیکن مرحوم سردار خیربخش مری اور شہید نواب اکبر بگٹی کا مقام مختلف ہے، انہیں قوم نے عزت و احترام اور اعلیٰ مقام دیا ہے، وہ بدقسمت قوم ہوگا جو اپنے لیڈر کی قربانیوں کو کم کریں یا اہمیت نا دے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button
error: پوسٹ کو شیئر کریں